پتھر کھسک گیا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور جو دینار میں نے اس کو دئے تھے وہ بھی اس سے واپس نہیں لئے۔ خدایا، اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے جس میں ہم اس وقت پھنسے ہوئے ہیں۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی ہٹ گئی مگر اتنی نہیں کہ وہ نکل سکیں۔
اب تیسرے آدمی نے دعا کی۔ اس نے کہا۔ خدایا، میں نے کچھ مزدور اجرت پر رکھے۔ کام کے بعد میں نے سب کو اجرت دے دی، مگر ایک مزدور اپنی اجرت چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی چھوٹی ہوئی رقم کو کارو بار میں لگا دیا اس سے مجھ کو بہت زیادہ مالی فائدہ ہوا۔ کچھ عرصہ بعد وہ آدمی واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے بندے، میری اجرت مجھ کو دے دے۔ میں نے اس سے کہا: یہ اونٹ یہ گائیں، یہ بکریاں اور یہ غلام جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب تمھاری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے خدا کے بندے، مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا کہ میں تم سے مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ یہ سب تمھارا ہی ہے۔ اس کے بعد اس نے سب چیزیں لیں اور ان کو اس طرح ہنکا لے گیا کہ ان میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ خدایا، اگر یہ میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے۔ اس کے بعد چٹان ہٹ گئی اور وہ تینوں باہر نکل کر روانہ ہو گئے۔ (بخاری و مسلم) یہ روایت صحیحین میں آئی ہے اور اس کے واقعہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دعا ایسی چیز ہے جو پتھر کی چٹان کو بھی اپنی جگہ سے کھسکا دیتی ہے۔ مگر یہ وہ دعا نہیں ہے جو زبان سے بس الفاظ کی صورت میں نکلتی ہے اور آدمی کی حقیقی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ دعا سے چٹان کھسکنے کا واقعہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے تابع کر دیں، جو اپنے اوپر خدا کو نگراں بنالیں ۔ حتی کہ بھوک کی شدت اور بیوی بچوں کی محبت بھی ان کو خدا کی پسندیدہ راہ سے نہ ہٹا سکے۔ انتہائی نازک جذباتی مواقع پر بھی خدا کی یاد دلانا ان کو چون کا دینے کے لئے کافی ہو، ہیجان خیز لمحات میں بھی جب خدا کا نام لے لیا جائے تو ان کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں، اور ان کے اٹھے ہوئے ہاتھ اپنی حرکت بند کردیں۔ آخرت کے حساب کا اندیشہ ان پر اتنا زیادہ طاری ہو کہ ایک حق دار کا حق ادا کرنے کی خاطر اگر ان کو اپنا سارا اثاثہ دے دینا پڑے تو اس سے بھی وہ دریغ نہ کریں۔ ایک آدمی اگر اپنا مطالبہ لے کر ان کے سامنے کھڑا ہو جائے تو وہ فوراً اس کو مان لیں خواہ مطالبہ کرنے والا کتنا ہی بے زور ہو اور اس کے مقابلہ میں ان کو کتنی ہی زیادہ قوت حاصل ہو۔
خدا کے بندے وہ ہیں جو اپنے نفس کو کچلنے اور اپنے فائدوں کو ذٹا کرنے کی قیمت پر خدا کو اختیار کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح خدا کو اپنا لیں وہ اگر کہیں کہ خدایا تو اس پتھر کی چٹان کو کھسکا دے تو خدا پتھر کی چٹان کو بھی ان کے لئے کھسکا دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues