تنظیم
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۰
کہ وہ بے نفس لوگ ہیں، انھوں نے اللہ کی خاطر اپنی انانیت کو ختم کر دیا ہے۔ اس طرح اپنے آپ کو بے نفس بنا لینا موجودہ دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے۔ اللہ کی نظر میں جو لوگ اس معیار پر پورے اتریں ان کے لئے وہ اپنی ہر قسم کی نعمتیں انڈیل دیتا ہے، وہ دنیا میں بھی عزت اور غلبہ حاصل کرتے ہیں اور آخرت کی سرفرازی بھی ان کے لئے مقدر کر دی جاتی ہے۔ جو لوگ بے نفسی کی حد تک خدا کے فرماں بردار بن جائیں ان کے سامنے جب کوئی صحیح بات آتی ہے تو وہ فورا اُس کو مان لیتے ہیں۔ ان کا باہمی اتحاد کبھی وہیں ٹوٹتا۔ وہ انصاف کے راستہ کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ ان کی بے نفسی ان کو ہر اس چیز کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے جو دنیا و آخرت میں برباد کرنے والی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کا راز بے نفسی ہے۔ اور کوئی آدمی بے نفس بنا ہے یا نہیں، اس کا سب سے بڑا ثبوت تنظیم کے ذریعہ ملتا ہے۔ تنظیمی زندگی میں اپنے کو باندھنا اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ آدمی نفسانی محرکات سے اوپر اٹھ گیا ہو۔ وہ تنقید اور تعریف سے بلند ہو۔ وہ اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر کسی کے بارے میں رائے قائم نہ کرتا ہو۔ اس کا رویہ پسند ناپسند کی بنیاد پر نہ بنتا ہو۔ وہ اس سے بے نیاز ہو چکا ہو کہ اس کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا۔ تنظیمی زندگی میں اس طرح کے مواقع بار بار آتے ہیں۔ اگر آدمی ان چیزوں سے اوپر اٹھا ہوا نہ ہو تو وہ اسی قسم کی باتوں میں الجھ کر رہ جائے گا اور تنظیم کی پابندی کو قبول کرنے میں ناکام رہے گا۔
اللہ کے مومن بندوں پر اللہ کی روپ سے بڑی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خدا کی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں، وہ دنیا میں اپنے مخالفین کے مقابلہ میں خدا کی مدد سے غالب آتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد وہ جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیئے جاتے ہیں۔ اللہ کی یہ دونوں نعمتیں صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ کی خاطر اپنی انفرادیت کو ختم کرکے اجتماعیت کے بندھن میں بندھ جائیں اور اس کے تحت اپنی دینی اور اخلاقی زندگی کو منظم کریں۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ میں اس طرح شامل کر لیں کہ اپنی انفرادیت کو وہ اس کے حوالے کر دیں، ان کی طاقت بے پناہ ہو جاتی ہے، کیوں کہ ان کے درمیان وہ تمام اسباب بالکل ختم ہو جاتے ہیں جو ایک کو دوسرے سے جدا کرنے والے ہیں۔ اجتماعیت کو توڑنے والی چیز انفرادیت پر اصرار ہے اور اپنی انفرادیت کو اللہ کے حوالے کرکے پہلے ہی وہ اس سے اوپر اٹھ چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کا پورا گروہ ایک متحدہ طاقت میں ڈھل جاتا ہے۔ اور جہاں اتحاد ہو، وہاں مغلوبیت کا گزر نہیں۔
جو لوگ انفرادی قربانی کی سطح پر دین کو اختیار کر لیں، ان کی زندگی خدا رخی زندگی بن جاتی ہے۔ نہ اس شاہ راہ پر چل پڑتے ہیں جو خدا کی قربت اور اس کی جنت کی طرف جانے والی ہے، ان کا سفر کبھی کھوٹا نہیں ہوتا، وہ کبھی راستہ کے دائیں بائیں نہیں مُڑتے۔ وہ دین کے سیدھے راستے پر چلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ خدا کی جنت میں پہنچ جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues