علم نام ہے اللہ سے خوف کا
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۴
مذہب کا عام تصور یہ ہے کہ مذہب کسی فرد کا ایک خالصۃً نجی معاملہ ہے۔ اس کے ردعمل میں دوسرا تصور یہ پیدا ہوا کہ مذہب مکمل طور پر ایک اجتماعی معاملہ ہے۔ یہ دونوں، یکسر غلط نہ ہونے کے باوجود، اصل حقیقت کی صرف ادھوری تشریح ہیں۔ دونوں میں سے کوئی جملہ صحیح طور پر اس نوعیت کو واضح نہیں کرتا جو مذہب اور انسان کے درمیان ہے ہونا چاہئے۔ اصل یہ ہے کہ مذہب انسان کے لئے روحانی طور پر وہی ہے جو مادی طور پر اس کے لئے خون ہے۔ خون سارے بدن کی زندگی ہے۔ وہ پورے جسم کو متحرک کرتا ہے، اسی طرح مذہب ایک انسان کی زندگی ہے۔ وہ اس کے پورے وجود کے حرکت و عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ مذہب آدمی کا طرزِ فکر ہے، وہ آدمی کا شعور ہے۔ وہ ایک ایسی چیز ہے جو روح کی تڑپ بن جاتی ہے۔ مذہب جب اس طرح کسی کے اندر داخل ہو جائے تو انفرادی یا اجتماعی الفاظ کے لئے اضافی بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد جو واقعہ ظہور میں آتا ہے وہ یہ کہ آدمی کی زندگی اندر سے باہر تک مذہب میں ڈھل جاتی ہے۔ وہ مذہب کی فکر سے سوچتا ہے، اس کے دل کی دھڑکنیں مذہب کے تابع ہو جاتی ہیں، جو عمل بھی اس سے ظاہر ہوتا ہے، مذہب کے زیر اثر ظاہر ہوتا ہے۔ مذہب اس کے لئے ایک ایسا رنگ بن جاتا ہے جس میں اس کی پوری زندگی رنگ اٹھتی ہے، اندر بھی اور باہر بھی۔ کسی آدمی کا مذہب وہ رسمی عقیدہ نہیں ہے جس کو اس نے انفرادی عقیدہ کے طور پر اختیار کیا ہو۔ اسی طرح کسی آدمی کا مذہب وہ خشک نظریہ نہیں ہے جس کو اس نے اجتماعی نظریہ کے عنوان سے اپنی تقریر و تحریر کا موضوع بنا رکھا ہو۔ آدمی کا مذہب حقیقتاً وہ فکر ہے جو آدمی پر اس طرح چھا جائے کہ اس کی پوری ہستی اس میں نہا اٹھے۔ اس اعتبار سے آدمی جس چیز کو اختیار کرے وہی اس کا مذہب ہے خواہ وہ معروف معنوں میں کوئی مذہب ہو یا مذہب کے علاوہ کوئی چیز۔
انسان اپنے وجود کے اعتبار سے ایک ہم آہنگ کل ہے۔ اسی طرح وہ ایک ایسا فکر چاہتا ہے جو ہم آہنگ کل کی حیثیت رکھتا ہو۔ انسان کی ہستی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ اس کے وجود کے مختلف حصے اور اس کی مختلف صلاحیتیں ایک "انا" کا جزو بن گئی ہوں۔ یہی حال فکر کے معاملے کا بھی ہے۔ آدمی ایک کلی فکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مختلف حواس کے ذریعہ وہ معلومات حاصل کرتا ہے ان کو جوڑ کر جب تک وہ ایک ہم آہنگ فکری مجموعہ کی حیثیت نہ دے لے وہ مطمئن نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کا کلی فکر حقیقت پر مبنی ہو یا اس نے فرضی طور پر اپنا ایک فکری ڈھانچہ بنا لیا ہو۔ اس اعتبار سے تاریخ میں اب تک جتنے فکری نظام سامنے آئے ہیں ان کو تین قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
GOD-CENTRED THINKING یعنی خدا مرکزی فکر، اس کا نمائندہ اسلام ہے MAN-CENTHED THINKING یعنی انسان مرکزی فکر، اس کا نمائندہ ہندو ازم ہے SOCIETY-CENTRED THINKING یعنی سماج مرکزی فکر، اس کا نمائندہ سوشلزم ہے اسلام خدا مرکزی دین ہے۔ مگر جب بگاڑ آتا ہے تو لوگ اسلام کی ایسی تشریح کرنے لگتے ہیں جو عام انسانی یا سماجی تصورات کی طرف جھکی ہوئی ہو۔ خدا کا دین ، اسلامی اصطلاحوں میں، انسان مرکزی دین بن جاتا ہے یا سماج مرکزی دین۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues