سب سے بڑی ضمانت
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۹
سب سے بڑی ضمانت
لارڈ ولیم بینٹنگ انیسویں صدی کے ربع ثانی (۱۸۳۵ء- ۱۸۲۸ء) میں ہندوستان کے گورنر جنرل تھے۔ انھوں نے ایک بار حکم دے دیا تھا کہ تاج محل کو گرا دیا جائے مگر عملاً وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کا انکشاف ۱۹۰۰ء کو اس وقت کے وائسرائے لارڈ کرزن نے کیا تھا۔ لارڈ کرزن نے کلکتہ کے ایک جلسہ عام میں کہا کہ ان دنوں ایسٹ انڈیا کمپنی کی اقتصادی حالت خراب ہوگئی تھی۔ کمپنی کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے سابق برطانوی گورنر جنرل (لارڈ بینٹنگ) نے چاہا کہ تاج محل کے سنگ مرمُر کو فروخت کر دیں۔ اس سے ان کو اس زمانہ میں ایک لاکھ روپیہ حاصل ہونے کی امید تھی۔ جب یہ خبر پھیلی تو لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ اب لارڈ بینٹنگ بگڑ گئے اور انھوں نے غصہ میں آکر یہ حکم دیا کہ تاج محل کو گرا کر زمین کے برابر کر دیا جائے۔ ان کے اس حکم کے بعد عوام کی مخالفت اور زیاوہ بڑھ گئی۔ ہندو اور مسلمان دونوں نے مل کر شدید احتجاج کیا۔ حتی کہ یہ اندیشہ پیدا ہو گیا کہ اگر تاج محل کو گرایا گیا تو عوامی بغاوت پیدا ہو جائے گی۔ لارڈ بینٹنگ کے مشیروں نے ان کو صورت حال کی نزاکت بتائی۔ چنانچہ انھوں نے اپنا حکم واپس لے لیا (نوبھارت ٹائمر ۱۸ جون ۱۹۶۹)
" تاج محل کو عوام نے نہیں بچایا " اس خبر کو پڑھ کر ایک شخص نے کہا " بلکہ تاج محل کو اس کے اپنے حسن نے بچایا۔ تاج اگر اتنا حسین نہ ہوتا تو برطانوی اقتدار کے مقابلہ میں اس کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی اتنی بڑی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی تھی "۔
عمارت کا یہی انجام اس کے معماروں کے لئے بھی مقدر تھا۔ مگر افسوس کہ معمار اپنے اندر دہ " حسن" پیدا نہ کر سکے جو انھوں نے سنگ مرمُر کے خاموش مجموعہ میں اپنی مہارت سے پیدا کر دیا تھا۔
آدمی کے اندر کوئی خوبی ہو تو یہ خوبی ہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہوتی ہے۔ وہ دشمنوں میں بھی اپنے دوست پا لیتا ہے۔ اغیار کی صفوں میں بھی اس کو اپنے قدرداں مل جاتے ہیں۔ یہ نا ممکن ہے کہ کسی کے اندر کوئی واقعی خوبی ہو، اس کے باوجود دنیا میں اس کا اعتراف نہ کیا جائے۔
تاہم اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا یہ حسن سانپ کا حسن نہ ہو۔ ایک سانپ خواہ وہ کتنا ہی حسین ہو آدمی اس سے محبت نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جس آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کے اندر ایک خوبی تو ہو مگر اسی کے ساتھ اس کی زبان میں " ڈنک " ہو، وہ لوگوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کو چیلنج کرنے لگے، وہ لوگوں کے ساتھ تعلقات میں بار بار جارحیت پر اتر آتا ہو، وہ اپنی جذباتی کارروائیوں سے لوگوں کو اپنا مخالف بنا لے۔ ایسا آدمی خواہ وہ کتناہی زیادہ خوبیوں والا ہو، لوگوں کا محبوب نہیں بن سکتا۔
تاج محل لوگوں کا محبوب اسی وقت بنتا ہے جب کہ وہ خاموش حسن میں ڈھل جائے۔ اگر وہ جارح حسن کا نمونہ ہو تو ایسے تاج محل کو کوئی نہیں بخشے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues