Al-Risala · March 1981 · page 2

وحید الدین ۲۷ دسمبر ۱۹۸۰

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۲

آغاز کلام

سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے وہ کوئی پیغام سنانا چاہتا ہو۔ مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے ڈوب جاتا ہے۔ درخت اپنی ہری بھری شاخیں نکالتے ہیں، دريا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔ یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ مگر انسان ان کے پاس سے گزر جاتا ہے، بغیر اس کے کہ ان کا کوئی بول اس کے کان میں پڑاہو۔ آسمان کی بلندیاں، زمین کے مناظر سب ایک بہت بڑے "اجتماع" کے شرکار معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہوا ہے۔ وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ کائنات کیا گونگے شاہکاروں کا ایک عظیم عجائب خانہ ہے۔ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اور اس کو وہ ابدی زبان میں نشر کر رہا ہے۔ مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ اس کو کائنات کا خاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔

پیغمبر اسی بے الفاظ خدائی کلام کو الفاظ دیتا ہے۔ وہ خاموش پیغام کو ہمارے سننے کے قابل بناتا ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ خدا کا وہ دین کون سا ہے جو اس کو انسان سے بھی مطلوب ہے اور بقیہ کائنات سے بھی۔ پیغمبر کے لائے ہوئے اس دین کی بنیاد قرآن پر ہے جو خدا کی طرف سے عربی زبان میں اتارا گیا ہے۔ پھر اس کتاب کی مزید وضاحت سنت سے ہوتی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات کی صورت میں کتابوں کے وسیع ذخیرہ میں مرتب ہو کر موجود ہے۔ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اس کو جاننا چاہتا ہو اس کو چاہئے کہ ان کتابوں کو پڑھے کیونکہ یہی وہ کتابیں ہیں جو دین خداوندی کو سمجھنے کے لئے اصل مآخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو لوگ ان کتابوں کے پورے ذخیرے کے مطالعہ کا وقت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے کم سے کم مختصر نصاب ذیل میں درج کیا جاتا ہے: قرآن مجید سیرۃ نبوی از حافظ ابن کثیر مشکوٰة المصابیح حیاة الصحابہ از مولانا محمد یوسف کاندھلوی یہ سب معروف کتابیں ہیں اور ہر جگہ بآسانی دستیاب ہو سکتی ہیں۔ یہ کتابیں اصلا عربی زبان میں ہیں۔ تاہم ان کے ترجمے مختلف زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں پڑھنے والا اپنی سہولت کے مطابق ان کو اپنی مطلوبہ زبان میں حاصل کر کے پڑھ سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب اسی دین خداوندی کے عمومی اور ابتدائی تعارف کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اگر وہ پڑھنے والے کے اندر یہ شوق پیدا کر دے کہ وہ اس دین کا مزید تفصیلی مطالعہ کر کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کرے تو یہی اس کی کامیابی کے لئے کافی ہے۔

وحید الدین ۲۷ دسمبر ۱۹۸۰

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page