Al-Risala · January 1981 · page 12

اپنی کمیوں کو جانئے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۲

اپنی کمیوں کو جانئے

وہ بڑھاپے کی منزل میں تھا۔ مگر اس نے شادی نہیں کی تھی، اس لئے کہ اس کو ایک آئیڈیل رفیقہ حیات کی تلاش تھی ۔ لوگوں نے پوچھا: کیا آپ کو زندگی بھر کوئی ایسی خاتون نہیں ملی جو آئیڈیل رفیقہ حیات بن سکتی ہو- اس نے جواب دیا: ایک خاتون ایسی ملی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ وہ بھی اپنے لئے ایک آئیڈیل شوہر تلاش کر رہی تھی۔ اور بدقسمتی سے میں اس کے معیار پر پورا نہ اتر سکا ۔

لوگ عام طور پر دوسروں کی کمیوں کو جاننے کے ماہر ہوتے ہیں اس لئے ان کا کسی سے نباہ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی اپنی کمیوں کو جان لے تو اس کو معلوم ہو کہ وہ بھی اسی بشری مقام پر ہے جہاں وہ دوسرے کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ اپنی کمیوں کا احساس آدمی کے اندر تواضع اور اتحاد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ صرف دوسروں کی کمیوں کو جانتا ہو تو اس کے اندر گھمنڈ پیدا ہو گا اور کسی سے نباہ کرنا اس کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی ایک آدمی میں ساری خصوصیات جمع نہیں ہوتیں۔ کسی میں کوئی خصوصیت ہوتی ہے اور کسی میں کوئی خصوصیت۔ پھر جس شخص میں کوئی ایک خصوصیت ہوتی ہے اس کے اندر اسی نسبت سے کچھ اور خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں جو گویا اس خصوصیت کا ضمنی نتیجہ ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص اگر بہادر ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر شدت ہوگی۔ ایک شخص شریف ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر نرمی ہوگی۔ ایک شخص حساس ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر غصہ ہوگا۔ ایک شخص ذہین ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر تنقیدی مادہ ہوگا۔ ایک شخص عملی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر فکری استعداد کم ہوگی۔ وغیرہ ایسی حالت میں قابل عمل بات صرف ایک ہے، ہم جس شخص کے روشن پہلو سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں اس کے تاریک پہلو کو نظر انداز کریں۔ یہی واحد تدبیر ہے جس سے ہم کسی کی صلاحیتوں کو اپنے لئے کار آمد بنا سکتے ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات ہوں یا مالک اور ملازم کے تعلقات یا دکان دار اور شرکت دار کے تعلقات ہر جگہ اسی اصول کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کو پھول لینا ہے تو ہم کو کانٹے کو بھی برداشت کرنا ہو گا۔ جس کے اندر کانٹے کی برداشت نہ ہو اس کے لئے اس دنیا میں پھول کا مالک بننا بھی مقدر نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تنہا آدمی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مطلوبہ کام کی پشت پر کئی آدمیوں کی صلاحیتیں ہوں۔ اسی ضرورت نے مشترک سرمایہ کی کمپنیوں کا تصور پیدا کیا ہے۔ لیکن کئی آدمیوں کا مل کر کسی مقصد کی تکمیل کے لئے جدوجہد کرنا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کے افراد میں صبر اور وسعت ظرف کا مادہ ہو۔ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے نہ الجھیں۔ وہ ناخوش گوار باتوں کو یاد رکھنے کے بجائے ناخوش گوار باتوں کو بھلانے کی کوشش کریں ۔ معیار پسندی بہت اچھی چیز ہے مگر جب معیار کا حصول ممکن نہ ہو تو حقیقت پسندی سب سے بہتر طریق عمل ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page