Al-Risala · April 1981 · page 3

رخ سے بے رخ ہونا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳

رخ سے بے رخ ہونا

ہر کام کے کرنے کا ایک صحیح رخ ہوتا ہے اور ایک غلط رخ ۔ آدمی صحیح رخ پر چل کر منزل پر پہنچتا ہے اور غلط رخ پر چل کر ادھر ادھر بھٹک جاتا ہے۔ مثلاً تجارت میں کامیابی کا راز محنت اور دیانت داری ہے۔ اب تاجر کے لئے عمل کا صحیح رخ یہ ہوگا کر وہ محنت اور دیانت کا ثبوت دے کہ تجارتی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ تاجر کا صحیح تجارتی رخ پر چلنا ہے۔ اور جو شخص صحیح رخ پر چلے وہ ضرور ایک نہ ایک دن کامیاب ہو گا۔ اس کے برعکس اگر وہ یہ کرے کہ بازار کے دوسرے تاجروں کی بربادی پر اپنی تجارتی ترقی کی بنیاد رکھنا چاہے۔ یا بینکوں میں ڈاکہ ڈال کرانا فاناً کروڑ پتی بننے کا خواب دیکھے۔ یا تجارت کے نام پر جلسہ جلوس اور احتجاج اور مطالبہ کی مہم چلائے اور سمجھے کہ اس طرح وہ اپنی تجارتی منزل پر پہنچ جائے گا تو یہ سب اس کے لئے غلط رخ پر بھٹکنے کی صورتیں ہوں گی۔ ایسا تاجر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ یہ تمام صورتیں کسی تاجر کے لئے رخ سے بے رخ ہونے کی صورتیں ہیں اور جو شخص رخ سے بے رخ ہو جائے اس کے لئے اس دنیا میں کوئی کامیابی نہیں۔

یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین کی بھی ایک صراط مستقیم ہے اور ایک اس میں بھٹکنے کے راستے ہیں۔ صراط مستقیم پر چلنے کو قرآن میں اقامت دین کہا گیا ہے اور ادھر ادھر کے راستوں میں بھٹکنے کو تفرق فی الدین (شوریٰ) دین کی صراط مستقیم پر قائم ہونا یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کو اپنا سب کچھ بنائے ، اسی سے سب سے زیادہ ڈرے اور اسی سے سب سے زیادہ محبت کرے۔ اس کو سب سے زیادہ فکر آخرت کی ہو۔ وہ ہر معاملہ کو آخرت کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔ اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو کہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ جائے اور اس کی سب سے بڑی طلب یہ ہو کہ خدا اس کو جنت میں داخل کرے۔ وہ دنیا میں ذمہ دارانہ زندگی گزارے۔ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس کا رویہ احتیاط اور تقویٰ کا رویہ ہو نہ کہ آزادی اور بے قیدی کا۔ یہ دین کا سیدھا راستہ ہے۔ جو اس پر چلے گا وہ لازماً خدا کو پائے گا اور اس کی رحمت و نصرت میں حصہ دار بنایا جائے گا۔

اس کے برعکس دین میں تفرق ہونا یہ ہے کہ دین کا کوئی لفظ بول کر ایک غیر متعلق قسم کی دھوم مچائی جائے مثلاً توحید کا نام لے کر اس قسم کی بحثیں شروع کر دی جائیں کہ خدا جسمانی وجود ہے کہ روحانی وجود۔ وہ صرف عادل ہے یا ظلم پر بھی قادر ہے۔ وغیرہ ۔ یا عبادت کا نام لے کر فضائل عبادت کی طلسماتی کہانیاں سنائی جانے لگیں یا مسائل عبادت میں فنی موشگافیاں کر کے نئی نئی لامتناہی بحثوں کا آغاز کر دیا جائے۔ کوئی اسلام کے نظام عدل کو قائم کرنے کے نام پر ظالم حکمرانوں“ کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے اکھیڑ پچھاڑ شروع کر دے۔ کوئی یہ نظریہ بنائے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور مکمل نظام سیاسی اقتدار کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے سب سے پہلا کام حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ یہ کہہ کر وہ سارے دین کو سیاست بازی کے رخ پر چلا دے۔ اس قسم کی تمام صورتیں دین کی صراط مستقیم سے بھٹکنے کی صورتیں ہیں۔ وہ قرآن کے الفاظ میں تفرق فی الدین ہے نہ کہ اقامت دین (شوریٰ ۱۳)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page