Al-Risala · April 1981 · page 9

قیامت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۹

قیامت

ہر روز رات کئے بعد دن آتا ہے۔ جو چیزیں رات کے وقت اندھیرے میں چھپی ہوئی تھیں وہ دن کے اجالے میں ایک ایک کرکے سامنے آجاتی ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا کے بعد آخرت کی دنیا آئے گی ۔ اس وقت تمام حقیقتیں دن کی روشنی کی طرح کھل جائیں گی۔ آج آدمی اپنی برائی کو مصنوعی اعمال میں چھپا لیتا ہے۔ کسی کو خوبصورت الفاظ مل گئے ہیں جو اس کی باطل پرستی کو حق پرستی کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ کسی کے لئے اس کی ظاہری رونقیں اس کی باطنی گندگی کا پردہ بن گئی ہے۔ ہر آدمی کی حقیقت "رات" کی تاریکی میں ڈھکی ہوئی ہے۔ مگر قیامت اس طرح کے تمام پردوں کو پھاڑ دے گی، وہ دن کی روشنی کی طرح ہر چیز کو اس کی اصلی حالت میں دکھا دے گی ۔

وہ وقت بھی کیسا عجیب ہوگا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ اس دن ہر آدمی وہاں کھڑا ہوا دکھائی دے گا جہاں وہ حقیقۃً تھا نہ کہ اس مصنوعی مقام پر جہاں وہ آج اپنے کو کھڑا کے ہوئے ہے۔

کتنے لوگ جو آج اقتدار کے مالک بنے ہوئے ہیں اس دن ان کے پاس عجز اور بے چارگی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم شخصیت کا درجہ پائے ہوئے ہیں اس دن وہ کیڑے مکوڑوں سے زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شان دار جواب ہے اس دن وہ ایسے بے جواب ہو چکے ہوں گے جیسے کہ ان کے پاس الفاظ ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page