Al-Risala · April 1981 · page 11

دوسری دنیا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱

دوسری دنیا

خدا کی موجودہ دنیا درجہ مکمل دنیا ہے مگر اس کا نظام امتحان کے مقصد کے تحت بنایا گیا ہے، خدا کے منصوبے کے تحت مستقل اور معیاری دنیا وہ ہے جو جزا و سزا کے تقاضوں کو پورا کرے۔ موجودہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس لئے امتحان کی مدت پوری ہونے کے بعد خدا موجودہ دنیا کو توڑ دے گا اور دوسری زیادہ کامل دنیا بنائے گا جہاں برے لوگ اور اچھے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں اور ہر ایک اپنے عمل کا ٹھیک ٹھیک بدلہ پا سکے۔

موجودہ دنیا میں ایک عجیب و غریب تضاد نظر آتا ہے۔ یہاں چڑیاں خدا کی حمد کے نغمے گاتی ہیں مگر انسان انسان کا قصیدہ پڑھتا ہے۔ یہاں ستارے اور سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنا سفر کرتے ہیں مگر انسان جان بوجھ کر ایسا راستہ اختیار کرتا ہے جس میں اس کا دوسروں سے ٹکراؤ ہو۔ یہاں کوئی درخت دوسرے درخت کی کاٹ نہیں کرتا۔ مگر اسی دنیا میں ایک انسان دوسرے انسان کی تخریب کے منصوبے بناتا ہے یہاں لمبا کھڑا ہوا درخت اپنا سایہ زمین پر بچھا کر اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے مگر انسان کو اگر کوئی بلندی حاصل ہو جائے تو وہ فوراً اکڑنے لگتا ہے۔

انسان کا یہ رویہ خدا کی اس پسند کے سراسر خلاف ہے جو اس نے اپنی پوری کائنات میں نافذ کر رکھا ہے۔ قیامت اسی لئے آئے گی کہ وہ اس تضاد کو ختم کر دے۔ وہ خدا کے سوا ہر بڑائی کی نفی کر دے، وہ خدا کی مرضی کے سوا ہر مرضی کو باطل ثابت کر دے۔ امتحان کی مدت پوری ہونے کے بعد خدا موجودہ دنیا کو توڑ کر ایک اور دنیا بنائے گا۔ وہاں اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں گے۔ اس کے بعد اچھے لوگ جنت میں ہوں گے اور برے لوگ جہنم میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page