صراط مستقیم
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴
صراط مستقیم
انسان کے لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کا سیدھا راستہ صرف ایک ہے اور وہ خدا کی طرف رخ کرنا ہے۔ یعنی اپنی تمام تو جہات اور سرگرمیوں کو خدا کی طرف موڑ دینا۔ خدا کو اپنا سب کچھ بنا کر اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا، یہی صراط مستقیم ہے۔ اس کے برعکس ہر وہ راستہ منزل سے بھٹکا ہوا راستہ ہے جس میں خدا کی طرف رخ نہ پایا جاتا ہو۔
اپنے نفس کی مانگیں پوری کرنے میں لگا رہنا۔ کسی زندہ یا مردہ شخص کی بڑائی میں گم رہنا، مثبت مقصد کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنا۔ حسد اور بغض اور انتقام اور انانیت کے جذبات کے تحت عمل کرنا۔ قوم یا وطن یا جماعت کو سب سے اونچا مقام دے کر اس کے لئے اپنے کو وقف کر دینا۔ یہ سب ٹیڑھی راہیں ہیں جو اصل راستہ کے دائیں بائیں سے نکلتی ہیں۔ وہ اصل منزل کے ادھر ادھر سے گزر جاتی ہیں اور اپنے مسافر کو منزل تک نہیں پہنچاتیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ آدمی کے دل میں خدا کے سوا کسی اور کی یاد سما جائے، وہ خدا کے سوا کسی اور کو پکارے اور خدا کے سوا کسی اور کو اپنے جذبات کا مرکز بنائے، اس کی سرگرمیوں کا رخ خدا کے سوا کسی اور چیز کی طرف ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صراط مستقیم سے بھٹک گیا، اس نے اپنے ’’نقطہ‘‘ سے خدا کے ’’نقطہ‘‘ کی طرف سفر نہیں کیا۔ ریل گاڑی کی ایک پٹری ہوتی ہے۔ گاڑی اگر پٹری پر چلے تو وہ کامیابی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ اور اگر اس کے پہیئے پٹری کے دائیں بائیں اتر جائیں تو اس کا راستہ کھوٹا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی منزل پر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا ہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان اگر سیدھا اپنے خدا کی طرف سفر کرے تو اس کا سفر صحیح طور پر جاری رہتا ہے اور بالآخر اس کو منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر اس کے سفر کا رخ خدا کی طرف نہ رہے تو وہ بھٹک جاتا ہے اور بربادی کے سوا کسی انجام تک نہیں پہنچتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues