Al-Risala · April 1981 · page 16

اللہ کی عبادت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۱۶

اللہ کی عبادت

عبادت اپنے ظاہر کے اعتبار سے کچھ خاص آداب بجا لانے کا نام ہے اور حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ کسی چیز کو اپنے جذبات شوق اور جذبات احتیاج کا مرکز بنا لیا جائے۔ اس اعتبار سے ہر آدمی کسی نہ کسی کی عبادت کر رہا ہے۔ ہر آدمی کی کوئی سب سے بڑی چاہت ہوتی ہے جس کو پانے کے لئے وہ اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے۔ ہر آدمی کہیں اپنے کو محتاج محسوس کرتا ہے اور اس محتاجی کی تلافی کے لئے وہ کسی نہ کسی کی مدد پر بھروسہ کئے ہوئے ہوتا ہے۔ جب آدمی صرف اللہ کی طرف لپکے اور صرف اللہ پر بھروسہ کرے تو یہی اللہ کی عبادت کرنا ہے اور جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو اپنے ان جذبات کا مرکز بنالے تو وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کر رہا ہے۔

جو شخص اللہ کی عبادت کرے وہ صرف اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ اسی پکار کے ایک روزمرہ طریقہ کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے رب میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ اس کی اپنی ضرورتیں بھی اس سے کم ہو جاتی ہیں ، اسی کی ایک متعین صورت کا نام روزہ ہے۔ اس کا شوق اس کو اکساتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف دوڑے ، اسی کے ایک تاریخی عمل کا نام حج ہے۔ اس کا سابقہ جب انسانوں سے پڑتا ہے تو لوگوں کے ساتھ بھی وہ اسی عنایت کا سلوک کرنے لگتا ہے جس عنایت کو وہ اپنے لئے اپنے رب سے مانگ رہا ہے ، اسی کے ایک مقررہ نظام کا نام زکوٰۃ ہے۔ جو شخص اللہ کا عابد ہو ، اس کی پوری زندگی اندر سے باہر تک عبادت بن جاتی ہے۔ وہ اللہ کا ہو جاتا ہے اور اللہ اس کا ۔ وہ جھکتا ہے تو اللہ کے لئے جھکتا ہے۔ اس کو اندیشہ ہوتا ہے تو صرف اللہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کے دل میں محبت کے جذبات امڈتے ہیں تو صرف اللہ کے لئے امڈتے ہیں۔ وہ زندگی کے معاملات میں لحاظ کرتا ہے تو صرف اللہ کا لحاظ کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page