اندھیرے کے بعد اجالا
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۶
رحم آگیا۔ انہوں نے اپنے نصرانی غلام کو بلایا جس کا نام عداس تھا۔ انہوں نے عداس سے کہا کہ ان انگوروں کے کچھ خوشے لو اور ان کو ایک برتن میں رکھ کر اس آدمی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اس میں سے کھائے۔ عداس نے ایسا ہی کیا۔ وہ انگور لے کر آیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ یہ کھاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو بسم اللہ کہا اور پھر کھایا۔ عداس نے آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا اور کہا: خدا کی قسم یہ جو آپ نے کہا، اس ملک کے لوگ ایسا نہیں کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عداس، تم کس ملک کے رہنے والے ہو اور تمہارادین کیا ہے ۔ عداس نے کہا: میں نصرانی ہوں اور میں نینوا (عراق) کا رہنے والا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مردِ صالح یونس بن متی کے شہر کا۔ عداس نے کہا: آپ کو کیسے معلوم کہ یونس بن متی کون تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وہ میرے بھائی ہیں۔ وہ نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں (ذات اخی۔ کان نبیاً ان نبی ) یہ سن کر عداس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگا۔ عقبہ اور شیبہ اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے کہا: دیکھو اس شخص نے تمھارے غلام کو خراب کر دیا۔ عداس جب لوٹ کر آیا تو انہوں نے اس سے کہا: عداس تمھارا برا ہو۔ تم کو کیا ہوا کہ تم اس کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگے۔ عداس نے کہا اے میرے آقا، زمین پر اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اس آدمی نے مجھ کو ایسی بات بتائی جس کو صرف ایک نبی ہی جان سکتا ہے۔ دونوں نے کہا : اے عداس، تمھارا برا ہو۔ وہ تم کو تمھارے دین سے پھیر نہ دے۔ کیونکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے ( سيرة ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۳۰ )
خدا کے رسول کو ایک ہی سفر میں مختلف لوگوں سے تین الگ الگ قسم کے سلوک کا تجربہ ہوا : ایک نے آپ کے اوپر پتھر پھینکے ۔
دوسرے نے آپ کی ضیافت کی ۔
تیسرے نے آپ کی نبوت کا اقرار کر لیا ۔
اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ یہ سبق کہ اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں اگر چٹیل میدان ہیں تو وہیں سایہ دار درخت بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں کچھ لوگوں سے اگر برے سلوک کا تجربہ ہو تو آدمی کو مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ آدمی اگر خود سچائی پر قائم رہے ۔ وہ اپنے دل کو منفی جذبات سے بچائے تو ضرور اس کو خدا کی مدد حاصل ہوگی ۔ ایک قسم کے لوگ اگر اس کا ساتھ نہ دیں گے تو کچھ دوسرے لوگوں کے دل اس کے لئے نرم کر دئے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues