خدا کا اعتماد سب سے بڑا اعتماد
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۸
خدا کا اعتماد سب سے بڑا اعتماد
دوسری جنگِ عظیم میں جب اتحادی طاقتوں نے بالآخر جرمنی کو شکست دے دی تو تمام نازی لیڈروں کو اسی برلن میں پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا جہاں وہ ساری دنیا کے قتل کا منصوبہ بنایا کرتے تھے۔ یہ واقعہ اکتوبر ۱۹۴۶ کا ہے۔ ہٹلر اور گورنگ نے تو پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ اس کے بعد رین ٹراپ، کیٹل ، ہیملٹن برنر، الفریڈ روزن برگ، فرینک، وہم فرک جولیس، ساکل، جوڈل، سس انکورٹ اور دوسرے نازی لیڈر جو زندہ بچے تھے، ایک ایک کرکے ختم کر دئے گئے۔
یہ وہ لیڈر تھے جنہوں نے چالیس لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور ان کی املاک پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے ایک ایسی خونی جنگ چھیڑی تھی جس میں ان کے مفروضہ دشمنوں کے علاوہ خود جرمن قوم کے ۲۰ لاکھ سپاہی کام آئے۔ انھوں نے لاکھوں انسانوں کو بیگار کیمپوں (Concentration Camp) میں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے کے لئے مجبور کر دیا تھا۔ ان کی درندگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے ملک کے بوڑھے، معذور اور بیمار لوگوں کو ۔ "جرمنی کے لئے بے فائدہ قرار دے کر گولی سے اڑا دیتے۔ مقتول بچوں، لاشوں سے اٹے ہوئے گڑھوں اور بیواؤں اور یتیموں کے غول کو دیکھ کر بھی ان کا پتھر جیسا دل پسینہ نہیں جانتا تھا۔
مگر شکست کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ جب وہ پھانسی کے تختے کے سامنے لائے گئے تو ان کے چہرے زرد تھے۔ ان کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں، وہ کچھ بولنا چاہتے تو معلوم ہوتا کہ زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ شعلہ بیان لیڈر گویائی کی طاقت کھو چکے تھے۔ جو دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے تھے وہ اپنے انجام کو دیکھ کر پاگل ہو گئے۔
جس بہادری کا انحصار صرف مادی سہارے پر ہو وہ اس وقت بزدلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جبکہ مادی سہارا اس سے چھن جائے۔ البتہ جس کا اعتماد خدائے لازوال پر ہو، وہ ہر حال میں شجاعت و عزیمت کی چٹان بنا رہتا ہے۔ خواہ مادی سہارے اس کا ساتھ دے رہے ہوں یا اس قسم کے تمام خارجی سہاروں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
اگر خدا کی مدد کا یقین دلوں میں زندہ ہو تو آدمی کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ وہ طاقت ور دشمنوں میں گھر کر بھی عزم و ہمت کی چٹان بنا رہے گا۔ قاتلوں اور غارت گروں کے ہجوم سے بھی وہ اس طرح زندہ سلامت نکل آئے گا جیسے وباء میں کسی کا تبدہی نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues