ایک وراثت یہ بھی ہے
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱
ایک وراثت یہ بھی ہے
کریم بخش سیدھے سادے دین دار آدمی تھے۔ گاؤں کی معمولی آمدنی پر گزر کر لیتے۔ ۶۵ سال کی عمر میں وہ چار بچے چھوڑ کر مرے توان کے لئے انھوں نے کوئی ذکر جائداد نہیں چھوڑی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے رحیم بخش شہر چلے آئے تاکہ اپنے لئے کمائی کی کوئی صورت کرسکیں۔ شہر میں انھوں نے مختصر سرمایے کے ساتھ ایک کاروبار شروع کر دیا۔
رحیم بخش کے والد نے ان کے لئے کوئی مادی وراثت نہیں چھوڑی تھی۔ مگر قناعت اور سادگی اور کسی سے لڑے بھڑے بغیر اپنا کام کرنے کی وراثت چھوڑی تھی۔ یہ وراثت رحیم بخش کے لئے بے حد مفید ثابت ہوئی ۔ ان کی سادگی اور قناعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ معمولی آمدنی کے باوجود وہ مسلسل ترقی کرنے لگے۔ ان کا لڑائی جھگڑے سے بچنے کا مزاج ان کے لئے مزید معاون ثابت ہوا۔ ہر ایک ان سے خوش تھا۔ ہر ایک سے ان کو تعاون مل رہا تھا۔ ان کی ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی مگر وہ ایک دن رکے بغیر جاری رہی۔
رحیم بخش کا کاروبار اگرچہ معمولی تھا مگر ان کی شرافت ، ان کی بے غرضی اور ان کی ایمان داری نے ان کو اپنے ماحول میں اتنی عزت دے رکھی تھی جیسے کہ وہ کوئی بڑی حیثیت کے آدمی ہوں۔ ان کے پاس سرمایہ بہت کم تھا مگر لین دین میں صفائی اور وعدہ کا پکا ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بازار میں بڑے بڑے تھوک بیوپاری ان سے کہتے کہ ” میاں جی ، جتنا چاہے مال لے جاؤ۔ پیسہ کی پروانہ کرو۔ پیسے بعد کو آجائیں گے “ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی سے جھگڑے کی نوبت آگئی۔ مگر انھوں نے خود ہی اپنے کو چپ کر لیا۔ وہ شریف آدمی کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے بلکہ خاموشی سے اپنے کاروبار میں لگ جاتے اور اس کے حق میں دعا کرنے رہتے۔ جب بھی ان کے دل میں شیطان کوئی بدعماگی کا جذبہ ڈالتا تو ان کے والد کا معصوم چہرہ ان کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے کوئی غلط معاملہ کیا یا کسی سے جھگڑا ٹھا دیا تو میرے باپ کی روح قبرمیں تڑپ اٹھے گی۔ یہ خیال فوراً ان کے جذبات کو دبا دیتا۔ وہ دوبارہ اسی تعمیری راستہ پر چل پڑتے جس میں انھیں ان کے باپ نے چھوڑا تھا۔
ان کا کاروبار بڑھا توان کو مزید معاون کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ اب انھوں نے اپنے بھائیوں کو بلانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ چاروں بھائی شہر میں منتقل ہو گئے۔ دھیرے دھیرے ان کے کاروبار کے چار مستقل شعبے ہو گئے۔ ہر شعبہ ایک ایک بھائی کے سپرد تھا۔ چاروں بھائی ایک ساتھ مل کر رہتے اور ساتھ کھاتے پیتے ۔ مگر کاروباری اعتبار سے ہر بھائی اپنے اپنے شعبہ کو آزادانہ طور پر انجام دیتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues