Al-Risala · June 1981 · page 13

استحقاق پیدا کیجئے

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳

استحقاق پیدا کیجئے

ایم اے خان ہائر سیکنڈری کے امتحان میں اچھے نمبر سے پاس ہوئے تھے۔ مگر کسی وجہ سے وہ بروقت آگے داخلہ نہ لے سکے۔ یہاں تک کہ اکتوبر کا مہینہ آگیا۔ اب بظاہر کہیں داخلہ ملنے کی صورت نہ تھی۔ تاہم تعلیم کا شوق ان کو ہندوسائنس کالج کے پرنسپل کے دفتر میں لے گیا۔

"جناب، میں بی ایس سی میں داخلہ لینا چاہتا ہوں" انھوں نے ہند و پرنسپل سے کہا۔

"یہ اکتوبر کا مہینہ ہے، داخلے بند ہو چکے ہیں۔ اب کیسے تمھارا داخلہ ہوگا "

بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ داخلہ لے لیں، ورنہ میرا پورا سال بیکا رد ہو جائے گا ، "ہمارے یہاں تمام سیٹیں بھر چکی ہیں۔ اب مزید داخلہ کی کوئی گنجائش نہیں "

پرنسپل اتنی بے رخی برت رہا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہرگز داخلہ نہیں لے گا اور اگلا جملہ طالب علم کو شاید یہ سننا پڑے گا کہ "کمرہ سے نکل جاؤ "، مگر طالب علم کے اصرار پر اس نے بددلی سے پوچھا " تمھارے مارکس کتنے ہیں؟ پرنسپل کا خیال تھا کہ اس کے نمبر یقیناً بہت کم ہوں گے۔ اسی لئے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ چنانچہ طالب علم جب اپنے خراب نتیجہ کو بتائے گا تو اس کی درخواست کو رد کرنے کے لئے معقول وجہ ہاتھ آجائے گی۔ مگر طالب علم کا جواب اس کی امید کے خلاف تھا۔ اس نے کہا جناب ۸۵ فی صد :

Sir, eighty five per cent

اس جملہ نے پرنسپل پر جادو کا کام کیا۔ فوراً اس کا موڈ بدل گیا۔ اس نے کہا "بیٹھو بیٹھو" اس کے بعد اس نے طالب علم کے کاغذات دیکھے اور جب کا غذات نے تصدیق کر دی کہ واقعی وہ پچاسی فی صد نمبروں سے پاس ہوا ہے تو اسی وقت اس نے پچھلی تاریخ میں درخواست لکھوائی۔ اس نے ایم اے خان کو نہ صرف تاخیر کے باوجود اپنے کالج میں داخل کر لیا بلکہ کوشش کر کے ان کو ایک وظیفہ بھی دلوا دیا۔

یہی طالب علم اگر اس حالت میں پرنسپل کے پاس جاتا کہ وہ تھرڈ کلاس پاس ہوتا اور پرنسپل اس کا داخلہ نہ لیتا تو طالب علم کا تاثر کیا ہوتا۔ وہ اس طرح لوٹتا کہ اس کے دل میں نفرت اور شکایت بھری ہوتی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے ہوا ہے۔ ورنہ میرا داخلہ ضرور ہونا چاہئے تھا۔ داخلہ نہ ملنے کی وجہ اس کا خراب نتیجہ ہوتا مگر اس کا ذمہ دار وہ ہند و کالج کو قرار دیتا۔ ماحول کار عمل اکثر خود ہماری حالت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر ہم اس کو ماحول کی طرف منسوب کر دیتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کر سکیں ۔ اگر آدمی نے خود اپنی طرف سے کوتاہی نہ کی ہو، اگر زندگی میں وہ ان تیاریوں کے ساتھ داخل ہوا ہو جو زمانہ نے مقرر کی ہیں تو دنیا اس کو جگہ دینے پر مجبور ہوگی۔ وہ ہر ماحول میں اپنا مقام پیدا کر لے گا، وہ ہر بازار سے اپنی پوری قیمت وصول کرے گا۔ مزید یہ کہ ایسی حالت میں اس کے اندر اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوگی ۔ وہ اپنے ماہنامہ جون 1981ء

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page