Al-Risala · June 1981 · page 36

آدمی کا امتحان

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶

آدمی کا امتحان

زندگی کا سارا معاملہ امتحان کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص بظاہر اچھے حالات میں ہے اور کوئی بظاہر برے حالات میں۔ مگر اس اعتبار سے دونوں یکساں ہیں کہ دونوں امتحان کے تراز و میں کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں ہر آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ کسی کا امتحان ایک قسم کے حالات میں ہے اور کسی کا دوسرے قسم کے حالات میں ۔

اللہ ہر آدمی کو مختلف قسم کے حالات میں ڈال کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنے حالات میں کس قسم کا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی رد عمل پر آدمی کے آخرت کے انجام کا فیصلہ ہونا ہے ۔ اللہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس میں ایک شخص حق پر ہوتے ہوئے کمزور پڑ جائے اور دوسرا شخص ناحق پر ہوتے ہوئے مضبوط حیثیت حاصل کرلے، اب جس شخص نے دوسرے سے معاملہ کرنے میں حق کا لحاظ کیا وہ جنتی ٹھہرا اور جس شخص نے دوسرے سے معاملہ کرنے میں موقع پرستی کا طریقہ اختیار کیا وہ جہنم کا سزاوار ہو گیا ۔ اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پیدا کرتا ہے جس میں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ اب جس شخص نے ایسے موقع پر تواضع کا طریقہ اختیار کیا وہ جنتی قرار پایا اور جس نے گھمنڈ کا مظاہرہ کیا وہ جہنمی بن گیا۔ اللہ تعالیٰ کسی کو کمزور بناتا ہے اور کسی کو طاقت ور۔ اب جس شخص نے انصاف کے پہلو کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے مطابق لوگوں کے ساتھ معاملہ کیا وہ جنت کا مستحق ٹھہرا اور جو شخص طاقت ور کے آگے جھکے اور کمزور کو ذلیل کرے وہ جہنم کا مستحق ہو گیا ۔ اسی طرح آدمی کی زندگی میں روزانہ جو معاملات پیش آتے ہیں وہ اس کے لئے خدا کی طرف سے امتحان کے پرچے ہیں۔ ہر روز آدمی اپنے رویہ سے یا تو اپنے کو جنت کی طرف لے جاتا ہے یا جہنم کی طرف۔ آدمی کی زندگی میں ہر روز دو راستے کھلتے ہیں ۔ آدمی ایک رخ پر جاکر اپنے کو جنت میں داخل کر دیتا ہے اور دوسرے رخ پر جاکر اپنے کو جہنم میں گرا لیتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page