دورِ جدید کا شرک
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۵
اس کے جیتے جاگتے ذہن کا جزو ہوتے ہیں ۔
شرک کسی صورت کا نام نہیں بلکہ حقیقت کا نام ہے ۔ اور انسان اتنا ظاہر پسند ہے کہ وہ ہر زمانہ میں اپنے لئے کوئی نہ کوئی محسوس خدا گھڑلیتا ہے۔ وہ خدا کو مانتے ہوئے بھی عملاً دوسروں کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا انسان بھی اتناہی مشرک ہے جتنا قدیم زمانہ کا انسان تھا۔ اگرچہ آج کے دیوتاؤں کے نام کچھ اور ہیں اور پہلے کے کچھ اور۔
توحید یہ ہے کہ آدمی اپنی عقیدت اور اپنے اعتماد کے جذبات کو صرف ایک خدا کے ساتھ وابستہ کردے۔ اور شرک یہ ہے کہ وہ زبان سے تو خدا کو خدا کہے۔ مگر اس کی حقیقی توجہ اور دلچسپیاں خدا کے سوا دوسروں کے ساتھ لگی ہوئی ہوں ۔
موجودہ زمانہ میں بت کی پرستش بہت سے لوگوں نے چھوڑ دی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شرک ختم ہوگیا ہے۔ شرک اب بھی پوری شان کے ساتھ لوگوں کے یہاں موجود ہے۔ فرق یہ ہے کہ آج پتھر کے بت کے بجائے دوسری چیزیں پوجی جاتی ہیں۔ بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اعلیٰ ترین جذبات کا مرکز اپنے قائدوں اور رہنماؤں کو بنا رکھا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے اداروں اور اپنی جماعتوں کے ساتھ وہی قلبی وابستگی رکھتے ہیں جو خدا کے ساتھ ہونی چاہئے۔ بہت سے لوگ اپنے ملک اور اپنی قوم کو خدا کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لئے معیار زندگی اور مادی ترقیاں وہی برتر مقام حاصل کئے ہوئے ہیں جو خدا کا مقام ہونا چاہئے ۔
موجودہ زمانہ میں بت پرستی کا شرک زیادہ تر عوام میں باقی رہ گیا ہے۔ مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں کا شرک شخصیت پرستی اور مادہ پرستی ہے۔ لوگ خدا کو مانتے ہوئے اپنی محبوب شخصیتوں کے پرستار بنے ہوئے ہیں۔ وہ زبان سے خدا کا اقرار کرتے ہیں مگر عملاً ان کی ساری گرویدگی صرف مادی مصلحتوں اور دنیوی مفادات سے ہے ۔
توحید کا پرستار وہ ہے جس کے جذبات خدا سے اتنا زیادہ وابستہ ہوجائیں کہ اس کی تنہائیاں خدا کی یاد میں بسر ہوتی ہوں۔ اس کو خدا کے تذکرہ سے لذت ملتی ہو۔ وہ اپنی صبح و شام کی زندگی میں خدا کو سب سے اونچا مقام دئے ہوئے ہو۔ اس کی نظر میں خدا کے سوا ہر دوسری چیز ہیچ بن گئی ہو۔ وہ سب کچھ خدا کے حوالے کرکے اپنے آپ کو اس کے لئے خالی کرلے ۔
موحد صرف اللہ والا ہوتا ہے اور مشرک اللہ کے ساتھ دوسروں والا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues