وہ کام نہ کرو جو تمھارے بس کا نہ ہو
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۵
سختی کرنے پر بھی اس نے اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ اس کے بعد اس غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ کے سوال پر بھی اس نے اپنے اسی سابقہ جملہ کو دہرایا: ”ان کی تعداد بہت ہے اور ان کی طاقت بڑی ہے۔ “ آپ نے کوشش کی کہ وہ دشمن کی صحیح تعداد بتائے، مگر وہ راضی نہ ہوا۔ آخر آپ نے اپنے سوال کو بدل دیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: ”وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ “ غلام نے کہا ”دس اونٹ“ آپ نے فوراً کہا: اس حساب سے دشمن کی فوج کی تعداد ایک ہزار ہے۔ کیونکہ ایک اونٹ ایک سو آدمیوں کی خوراک کے لئے کافی ہوتا ہے۔
وہ کام نہ کرو جو تمھارے بس کا نہ ہو
خلیفہ ثانی حضرت فاروق اعظم ی اللہ عنہ نے ۱۳ سو برس پہلے فرمایا : جس نے بھیڑے کی چرواہی کی اس نے ظلم کیا (من استرعی الذئب ظلم، ابن مردویہ عن ابن عمر)
معاملات میں صرف نیک نیت ہونا کافی نہیں
جنگ جمل (۳۶ ھ) زوروں پر تھی۔ دونوں طرف مسلمانوں کی لاشیں میدان میں گر رہی تھیں۔ حضرت عائشہ رض اگرچہ جنگ جمل میں شریک تھیں مگر وہ مقام جنگ سے بہت دور تھیں۔ کعب بن سور مسلمانوں کے خون سے پریشان تھے۔ وہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہا کہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو جائیں اور میدان جنگ کی طرف چلیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی سواری کو دیکھ کر لوگ جنگ سے رک جائیں اور صلح کی صورت پیدا ہو جائے۔ حضرت عائشہ خود بھی باہمی کشت و خون سے پریشان تھیں وہ فوراً راضی ہوگئیں اور اپنے اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ آپ کے ہودج کے چاروں طرف لوگوں نے احتیاط کی غرض سے زر ہیں پھیلا دیں۔ اور ان کے اونٹ کو لا کر ایسے مقام پر کھڑا کر دیا جہاں سے پورا لشکر ان کو دیکھ سکتا تھا۔ مگر نتیجہ امید کے بالکل خلاف نکلا۔ لڑائی کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی۔ لوگ سمجھے کہ ام المومنین نفس نفیس میدان جنگ میں آگئی ہیں اور ان کو بہادری کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔ اس طرح ان کی موجودگی مزید اشتعال و اشتداد پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ حضرت عائشہ کا اونٹ مسلمانوں کے کشت و خون کا مرکز بن گیا۔ یہاں تک کہ حضرت علی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس اونٹ کو مار کر گرا دو۔ جب تک یہ اونٹ نہیں گرے گا جنگ نہیں رک سکتی۔ کبھی بولنے کے بجائے چپ رہنا ضروری ہوتا ہے احد کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔ مشہور ہو گیا کہ آپ قتل ہو گئے (ان محمد اقتل) مسلمان کہنے لگے کہ جب آپ قتل ہو گئے تو اب ہم کس پر لڑیں (علام نقاتل اذا کان محمد قد قتل) اس دہشت میں سب سے پہلے جس نے آپ کو گڑھے میں دیکھا وہ کعب بن مالک انصاری تھے۔ وہ پکار اٹھے: اے مسلمانوں کے گروہ تم کو خوش خبری ہو دیا معشر المسلمین ابشروا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چپ رہو (فاشار اليه الرسول ان اصمت)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues