نجات کی دو شرطیں
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶
نجات کی دو شرطیں
آخرت میں نجات کن لوگوں کو حاصل ہوگی۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو شرطوں میں سے کم از کم ایک شرط کا ثبوت دیا ہو۔ اول وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین میں ظلم کو شامل نہیں کیا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان میں کوئی ظلم نہیں ملایا انھیں کر لئے امن ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں (انعام ۸۳)
یہاں ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو آدمی کے لئے یقین کے ہم معنی بن جاتا ہے اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ جو لوگ اللہ کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی نفسیات کا جز تر بن کے ان کے اوپر چھا جائے ۔ وہ ان کے دل و دماغ کو اپنے احاطہ میں لے لے۔ ان کا ایمان اور ان کا سوچنا اور چاہنا الگ الگ نہ رہیں بلکہ دونوں ایک ہو جائیں۔ ان کا یقین و اعتماد ، ان کا خوف و محبت ، ان کی دلچسپیاں اور وفاداریاں سب اسی کے لئے ہو جائیں جو ان کا ایمان باللہ ان سے تقاضا کرتا ہے۔ ایسے لوگ اعلیٰ ترین معنی میں ہدایت یافتہ مومن ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ میں جیتے ہیں۔ ان کا سب کچھ اللہ بن جاتا ہے۔ وہ دنیا کی زندگی ہی میں خدا کی پناہ میں آچکے ہوتے ہیں ۔ اور جو دنیا ہی میں خدا کی پناہ حاصل کر چکا ہو اس کے متعلق کون شبہ کر سکتا ہے کہ وہ آخرت میں محروم ہو گا۔ دوسرا درجہ وہ ہے جس کو " اعتراف " کہا گیا ہے۔ اور کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ انھوں نے نیک عمل کے ساتھ برا عمل ملا دیا۔ بعید نہیں کہ اللہ انھیں معاف کر دے ۔ وہ بخشنے والا مہربان ہے (توبہ (۱۰۲) پہلے گروہ کے لئے اگر "عمل" باعث نجات بنے گا تو دوسرے گروہ کے لئے " اعتراف"۔ آدمی کو اپنے رب کے سامنے یا کامل عمل پیش کرنا ہے یا کامل اعتراف ۔ ان دو کے بعد نجات کا کوئی تیسرا درجہ نہیں۔
آدمیوں میں کچھ مضبوط ارادہ کے لوگ ہوتے ہیں اور کچھ کمزور ارادہ کے لوگ۔ مضبوط ارادہ کے لوگ جب دل سے اللہ کا اقرار کر لیتے ہیں تو ان کا عمل ان کے اقرار سے الگ نہیں رہتا۔ وہ اپنے عمل میں بھی وہی بن جاتے ہیں جو وہ اپنے دل کے اندر بنے ہیں۔ مگر کمزور ارادہ کے لوگ اپنے اقرار اور اپنے عمل میں اتنی یکسانی پیدا نہیں کر پاتے۔ وہ بار بار شیطان اور نفس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کے لئے بھی اللہ کے یہاں رحمتوں کا سایہ ہے۔ مگر یہ سایہ اس شرط پر ہے کہ انھوں نے ڈھٹائی کے بجائے اعتراف کا ثبوت دیا ہو۔ انھوں نے تاویلوں کا سہارا لینے کے بجائے کھلے طور پر اقرار کر لیا ہو۔ وہ بحث کرنے کے بجائے چپ ہو گئے ہوں۔ جب ان کی کوتاہیوں کی نشان دہی کی جائے تو چھپنے کے بجائے انھوں نے اپنا سر جھکا لیا ہو۔ جن کے اوپر عزت نفس کے بجائے شرمندگی طاری ہوئی ہو۔ خلاصہ یہ کہ اگر وہ اپنے رب کے سامنے حسن عمل نہ پیش کر سکے ہوں تو انھوں نے اپنے رب کے سامنے عجز کے آنسو پیش کئے ہوں۔ جو لوگ یہ آخری چیز بھی نہ پیش کر سکیں ان کو خدا بخشے گا تو کس بہانے بخشے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues