Al-Risala · September 1981 · page 8

یہ یقین کی طاقت تھی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۸

یہ یقین کی طاقت تھی

قریش کے لوگوں میں ایک شخص عمروبن عبد ود نام کا تھا۔ وہ غیر معمولی ڈیل ڈول کا پہلوان آدمی تھا۔ بدر کی لڑائی میں وہ قریش کی طرف سے شریک ہوا اور زخمی ہو کر بھاگا۔ اسی زخم کی وجہ سے وہ اُحد کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکا۔ غزوہ خندق کا وقت آیا تو وہ بڑی شان کے ساتھ نکلا۔ ایک مقام پر جہاں خندق کی چوڑائی نسبتاً کم تھی وہ گھوڑا کُدا کر مسلمانوں کی طرف آگیا۔ اور آواز دی کہ کون مجھ سے جنگ کرتا ہے۔ علی بن ابی طالب اٹھے اور کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے اس سے لڑنے کی اجازت دیجیے۔ آپ نے کہا کہ یہ عمرو بن عبدود ہے، بیٹھو (انہ عمر و اجلس) وہ بیٹھ گئے۔ عمرو بن عبد ود نے دوبارہ آواز دی کہ تمھاری وہ جنت کہاں ہے جس کے متعلق تمھار اگمان ہے کہ تم میں سے جو شخص مارا جائے گا وہ اس میں داخل ہوگا ۔ حضرت علی دوبارہ اٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو بٹھا دیا۔ اس نے تیسری بار آواز دی۔ حضرت علی پھر اٹھے۔ رسول اللہ نے پھر فرمایا کہ یہ عمرو ہے (انہ عمرو) حضرت علی نے کہا: خواہ وہ عمرو ہی کیوں نہ ہو (وان كان عم دا) اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔

حضرت علی نکلے تو دیو پیکر عمرو بن عبدود کے مقابلہ میں وہ بچہ دکھائی دیتے تھے۔ عمروبن عبدود نے کہا: اے میرے بھتیجے، مجھ کو ناپسند ہے کہ میں تمھارا خون بہاؤں۔ حضرت علی نے کہا: مگر خدا کی قسم میں تمھارا خون بہانے کو برا نہیں سمجھتا۔ یہ سن کر عمرو بن عبدود غصہ میں آگیا۔ وہ اپنے گھوڑے سے اتر پڑا اور حضرت علی پر اتنی زور سے تلوار ماری کہ وہ ان کی ڈھال کو توڑتی ہوئی ان کے سر تک پہنچ گئی۔ مگر زخم کھا کر حضرت علی کی شجاعت میں اور اضافہ ہو گیا۔ حضرت علی نے انتہائی تیزی کے ساتھ جوابی وار کیا۔ حضرت علی کی تلوار عمرو بن عبدود کے کندھے پر پڑی اور اس کی گردن کی رگ کٹ گئی۔ وہ اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ زمین پر گر پڑا اور اس کے گرنے سے غبار اڑا۔ اس کے بعد تکبیر کی آواز سنائی دی تو صحابہ نے جان لیا کہ حضرت علی نے عمروبن عبدود کو قتل کر دیا ہے۔ اس موقع پر حضرت علی کی طرف ایک نظم منسوب ہے جس کے دو شعر یہ ہیں:

اليوم يمنعنى الفرار حفيظتى ومصمم فى الرأس ليس بنابي لا تحسبن الله خاذل دينه ونبيه يا معشر الاحزاب میرے تحفظ (ایمانی) نے آج مجھ کو بھاگنے سے روک دیا اور ضرب (دشمنی کے) سر سے چوکنے والی نہیں۔ اے مسلمانوں کی جماعت، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ اپنے دین اور اپنے نبی کو رسوا کرے گا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page