Al-Risala · September 1981 · page 10

ایمانی غیرت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۰

ایمانی غیرت

جنگ قادسیہ (اللہ ) کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی فوج میں ایک شخص ابو محجن ثقفی تھے۔ وہ بہت بہادر تھے۔ مگر کبھی کبھی شراب پی لیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کو کوڑے لگتے تھے۔ بالآخر حضرت سعد بن ابی وقاص نے ان کو ایک خیمہ میں قید کر دیا۔ ایک روز حضرت سعد زخمی تھے اور اپنے خیمہ کے پاس بلندی پر بیٹھ کر فوج کو ہدایات دے رہے تھے۔ اس دن ایرانی فوج کا زور بہت زیادہ تھا اور مسلمان ان کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے تھے۔ ابو محجن ثقفی بیڑیاں پہنے ہوئے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے دکھ کے عالم میں یہ شعر پڑھا :

كفى حزنا ان تلتقى الخيل بالقنا واترك مشد وداعلى وثاقيا غم گین ہونے کے لئے یہ کافی ہے سوار نیزوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں اور مجھے بیڑیوں میں باندھ کر چھوڑ دیاجا ابو محجن ثقفی نے حضرت سعد کی بیوی کے پاس ایک باندی کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ آج میری بیڑیاں کھول دو اور مجھ کو سعد کا گھوڑا اور ان کا ہتھیار دے دو۔ اگر میں زندہ رہا تو ابو محجن پہلا شخص ہوگا جو تمھاری طرف لوٹ کر آئے گا اور دوبارہ بیڑیاں پہن لے گا۔ حضرت سعد کی بیوی کو یہ پیغام ملا تو انھوں نے ابو محجن ثقفی کی بیڑیاں کھول دیں اور گھوڑا اور ہتھیار بھی ان کے حوالے کر دیا۔ اب وہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے نکلے اور مسلمانوں کے لشکر میں جاکر شامل ہوگئے۔ وہ اتنا بے جگری سے لڑے کہ جدھر گھستے دشمنوں کا صفایا کر دیتے ۔ حضرت سعد دور سے ان کو دیکھتے اور تعجب کرتے کہ یہ سوار کون ہے۔ بالآخر مسلمانوں کو کامیابی ہوئی۔ ابو محجن فوراً لوٹے اور گھوڑا اور ہتھیار واپس کر کے دوبارہ بیڑیاں پہن لیں۔ حضرت سعد شام کو گھر میں آئے تو ان کی بیوی نے پوچھا کہ آج تمھاری لڑائی کیسی رہی۔ انھوں نے کہا کہ آج کی لڑائی بڑی سخت تھی۔ یہاں تک کہ اللہ نے ایک شخص کو چہکبرے گھوڑے پر سوار کر کے بھیج دیا۔ اگر میں نے ابو محجن کو زنجیروں میں باندھانہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ ابو محجن کے حملے ہیں۔ بیوی نے کہا کہ خدا کی قسم وہ ابو محجن ہی تھے۔ اس کے بعد انھوں نے سارا قصہ بتایا۔ حضرت سعد نے ابو محجن کو بلایا اور ان کی زنجیریں کھول دیں اور کہا : خدا کی قسم اب میں شراب پینے پر تم کو سزا نہیں دوں گا۔ ابو محجن ثقفی نے کہا : میں بھی خدا کی قسم اب کبھی شراب نہ پیوں گا (و انا ذا الله لا اشربها ابدا)

غیرت مند آدمی ایک معمولی واقعہ سے بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ مگر جو شخص غیرت سے خالی ہو اس کی اصلاح کے لئے کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page