سچائی کی فتح
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴
سچائی کی فتح
تیرھویں صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ کاندھلہ ضلع مظفر نگر (یوپی) کی جامع مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں میں نزاع شروع ہو گئی۔ یہ نزاع مسجد سے متصل ایک زمین کے بارے میں تھی مسلمان اس زمین کو مسجد کی ملکیت قرار دے کر مسجد میں شامل کرنا چاہتے تھے اور ہندوؤں کا اصرار تھا کہ یہ قدیم مندر کا حصہ ہے۔ جھگڑا بڑھا تو معاملہ عدالت تک پہنچا اور کئی سال تک اس کا مقدمہ چلتا رہا۔
مجسٹریٹ انگریز تھا۔ جو شواہد اس کے سامنے پیش کئے گئے وہ اتنے قطعی نہ تھے کہ انکی بنیاد پر وہ کسی ایک فرقہ کے حق میں فیصلہ کر سکے۔ بالآخر مجسٹریٹ نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے الگ الگ گفتگو کی۔ اس نے مسلمانوں سے کہا کہ کیا تمھاری نظر میں کوئی ایسا ہندو ہے جو یہ گواہی دے کہ یہ زمین مسجد کی ملکیت ہے۔ اگر تم کسی ایسے ہندو کا نام بتاؤ تو میں اس کے بیان پر زمین کا فیصلہ کر دوں گا۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم کسی ہندو کا نام نہیں بتا سکتے ، یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور ہم کو کسی ہندو سے یہ امید نہیں کہ ایسے مذہبی معاملہ میں وہ جانب داری کے بغیر بالکل سچ بات کہہ سکے اور یہ گواہی دے کہ زمین مسجد کی ملکیت ہے۔ اس کے بعد انگریز مجسٹریٹ نے ہندوؤں کو بلایا اور کہا کہ کیا تم کسی ایسے مسلمان کا نام بتا سکتے ہو جو تمھارے دعوے کی تصدیق کرے اور یہ گواہی دے کہ یہ زمین مندر کی ملکیت ہے؟ اگر تم ایسے کسی مسلمان کا نام بتاؤ تو میں اس کے بیان پر زمین کا فیصلہ تمھارے حق میں کر دوں گا۔ ہندوؤں نے باہم مشورہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے مجسٹریٹ سے کہا کہ یہ مسئلہ قومی عزت کا معاملہ بن گیا ہے۔ اس لئے بہت مشکل ہے کہ کوئی مسلمان یہ گواہی دے کہ یہ زمین مندر کی ہے تاہم ہماری بستی میں ایک بزرگ ایسے ہیں جن سے ہم کو امید ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔
ہندوؤں نے جس مسلمان کا نام بتایا وہ مولانا مظفر حسین کاندھلوی کے والد مولانا محمود بخش (م ۱۲۵۸ھ) تھے مجسٹریٹ کا کیمپ اس وقت کاندھلہ کے قریبی موضع ایلم میں تھا۔ اس نے فورا مولانا محمود بخش کے یہاں پیغام بھیجا کہ وہ کچہری پہنچ کر متعلقہ مسئلہ میں اپنا بیان دیں۔ مجسٹریٹ کا بھیجا ہوا آدمی جب مولانا موصوف کے پاس پہنچا تو انھوں نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ فرنگی کا منہ کبھی نہیں دیکھوں گا۔ مجسٹریٹ نے دوبارہ اپنا چپراسی بھیج کر کہلایا کہ اس کا انتظام رہے گا کہ میں یا کوئی دوسرا انگریز آپ کے سامنے نہ پڑے۔ آپ مہربانی کر کے تشریف لائیں، کیونکہ آپ ہی کے بیان پر ایک اہم مقدمہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس نے مزید کہلایا کہ آپ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues