جاننا کافی نہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۶
جاننا کافی نہیں
بوعلی سینا (۳۷۰ھ ۔ ۴۲۸ھ) بہت عالم فاضل شخص تھے، کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ اپنے زمانہ کے ایک بزرگ شیخ ابو سعید ابوالخیر سے ملے اور ان کے اں چند دن گزارے۔ یہ بوعلی سینا جب واپس جانے لگے تو انھوں نے شیخ ابو سعید ابوالخیر کی خدمت میں رہنے والے ایک شخص سے کہا: آج میں یہاں سے جارہا ہوں۔ تم ایسا کرنا کہ میرے بعد شیخ میرے بارے میں جو کچھ کہیں وہ تم ایک خط میں لکھ کر میرے پاس بھیج دینا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شیخ کا خیال میرے بارے میں کیا ہے۔
بوعلی سینا کی واپسی کو کئی دن گزر گئے مگر شیخ ابو سعید ابوالخیر نے ان کے بارے میں کوئی بات نہ کہی۔ اچھا یا برا کسی قسم کا کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بالآخر کئی دن کے انتظار کے بعد مذکورہ شخص نے شیخ سے سوال کیا کہ حضرت، آپ کے پاس بوعلی سینا آئے تھے، وہ آپ کی نظر میں کیسے آدمی ہیں۔ شیخ ابو سعید ابوالخیر نے جواب دیا کہ وہ ایک اچھے حکیم ہیں اور ان کے پاس بہت علم ہے۔ مگر وہ مکارم اخلاق نہیں رکھتے۔
مذکورہ شخص نے شیخ ابو سعید ابوالخیر کا یہ تبصرہ ایک کاغذ پر لکھا اور اس کو بوعلی سینا کے پاس بھیج دیا۔ بوعلی سینا نے اس کو پڑھا تو ان کو بڑا جھٹکا لگا۔ انھوں نے مذکورہ شخص کو اس کا جواب لکھ کر بھیجا۔ اس جواب میں انھوں نے یہ لکھا کہ مجھے تمھاری تحریر پر تعجب ہے، میں نے مکارم اخلاق پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ پھر شیخ میرے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں مکارم اخلاق نہیں جانتا۔ مذکورہ شخص نے بوعلی سینا کا یہ جواب شیخ ابو سعید ابوالخیر کو بتایا۔ وہ اس کو سن کر مسکرائے اور کہا:
من این نگفتم که مکارم اخلاق نه داند، گفته ام که ندارد میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ مکارم اخلاق نہیں جانتے، میں (فوائد الفواد)
لے یہ کہا ہے کہ وہ مکارم اخلاق نہیں رکھتے۔
ایک چیز ہے "جاننا" اور ایک چیز ہے "ہونا"۔ جاننا ذہن اور حافظہ کی سطح پر ہوتا ہے۔ اور ہونا آدمی کے پورے وجود کی سطح پر۔ جاننے والا آدمی صرف جانتا ہے اور ہونے والا آدمی خود اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ جاننا بہت آسان ہے۔ کوئی بھی شخص پڑھ کر اور سیکھ کر دین و اخلاق کی باتوں کو جان سکتا ہے۔ مگر ہونا اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ ہونے کے لئے آدمی کو اپنے آپ کو میں ڈالنا پڑتا ہے۔ کیونکہ پسا ہوا سفوف ہی پانی میں گھلتا ہے نہ کہ جمے ہوئے ٹکڑے ۔ مگر اصل اہمیت اعتبار کی ہے۔ اور حقیقت کی دنیا میں جو کچھ اعتبار ہے وہ ہونے کا ہے نہ کہ جاننے کا۔
جس جاننے کے ساتھ ہونا نہ ہو، حقیقت کی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues