خدا کو پانے والے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲
خدا کو پانے والے
خدا کی زمین پر شاید ایسے لوگ موجود نہیں جنہوں نے خدا کو ان عظمتوں کے ساتھ پایا ہو جس کے اثرات اس ان خیر کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں جس کو خدا کی یاد کہا گیا ہے۔ جھوٹی عبادت کی دھوم ہر طرف نظر آتی ہے۔ مگر سچی عبادت ۔ نا نایاب ہے کہ امکان ہی کے درجہ میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ کہیں موجود ہوگی۔
آج ساری دنیا میں دین اور اسلام کا غلغلہ بلند ہے۔ مگر وہ انسان شاید خدا کی زمین پر کہیں پایا نہیں جاتا جس نے خدا کو اس طرح دیکھا ہو کہ اس کی ہیبت سے اس کا دل دہل اٹھے اور اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ جو آن کو پڑھے تو اس کی روح پکار اٹھے کہ خدایا یہ تیرا کتنا بڑا احسان ہے کہ تو نے میری ہدایت کا ایسا انتظام کیا، ورنہ میں حالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا۔ وہ رسول کی سنت کو دیکھے تو اس کا وجود اس دریافت سے سرشار ہو جائے کہ خدا کا کیسا غیر معمولی انتظام تھا کہ اس نے پیغمبر کی زندگی میں ہدایت کا بے داغ نمو نہ قائم کیا اور پھر تاریخ میں اس کو روشنی کے ابدی مینار کی طرح محفوظ کر دیا۔ جب وہ سجدہ کرتے ہوئے اپنا سر زمین پر رکھے تو اس کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کے رب نے اس کو اپنی رحمت کے آغوش میں لے لیا ہے، جب وہ کوئی غذا اپنی حلق کے نیچے اتارے تو اس کی پوری ہستی میں اس احسان مندی کی لہر دوڑ جائے کہ کیسا عجیب ہے وہ خدا جس نے میرے جسم کی پرورش کے لئے ایسی مکمل غذا کا اہتمام کیا۔ جب وہ پانی پئے تو اس کی آنکھوں سے ایک اور جگر نا بہ پڑے اور وہ بے اختیار ہو کر کہے کہ خدایا اگر تو مجھے سیراب نہ کرے تو میں سیراب ہونے والا نہیں، اگر تو مجھے پانی نہ دے تو کہیں سے مجھ کو پانی ملنے والا نہیں۔
آہ، لوگ اپنے کو خدا سے کتنا قریب سمجھتے ہیں مگر وہ خدا سے کتنا زیادہ دور ہیں۔ وہ خدا کا نام لیتے ہیں مگر ان کے منھ میں خدائی مٹھاس کی شکر نہیں گھلتی ۔ وہ خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر خدا کے چمنستان کی کوئی خوشبو ان کے مشام کو معطر نہیں کرتی۔ وہ خدا کے نام پر دھوم مچاتے ہیں مگر خدا کے نورانی سمندر میں نہانے کا کوئی نشان ان کے جسم پر ظاہر نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی جنتیں ان کے لئے مخصوص ہو چکی ہیں مگر جنت کے باغ کا کوئی جھونکا ان کے وجود کو نہیں چھوتا۔
کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس کی یاد دل و دماغ کی دنیا میں کوئی اهتزاز (Thrill) پیدا نہ کرے ۔ کیسی عجیب ہوگی وہ جنت جس میں داخلہ کا ٹکٹ آدمی اپنی جیبوں میں لئے پھرتا ہو مگر جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک اس کے رفتار و گفتار سے نمایاں نہ ہو۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ آخرت والے جن کے لئے آخرت کی ابدی وراثت لکھی جا چکی ہو مگر ان کی ساری دلچسپیاں بدستور اسی عارضی دنیا میں اٹکی ہوئی ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues