تقویٰ نہ کہ شور و غل
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳
تقویٰ نہ کہ شور و غل
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ مکہ کے مشرکین مسجد حرام کے والی بننے کے لائق نہیں۔ اس کے والی تو صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو متقی ہیں۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اور ان مشرکین کی نماز کعبہ کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں کہ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ پس عذاب چکھو اپنے انکار کے سبب سے (انفال ۳۵ - ۳۵-۳۴) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکہ کے مشرکین خانہ کعبہ میں جمع ہو کر صرف سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے، اس کے سوا کچھ اور نہیں کرتے تھے۔ وہ دراصل اپنے دعوے کے مطابق ابراہیم اور اسماعیل کی عبادت کرتے تھے۔ البتہ انہوں نے اس عبادت پر تالیوں اور سیٹیوں کا اضافہ کر لیا تھا۔ یہ چیزیں ان کی کل عبادت نہ تھیں بلکہ ان کی اصل عبادت کا جزو تھیں ۔ جیسا کہ آج بھی گمراہ فرقوں اور قوموں میں عبادت کے ساتھ ساتھ تالی پیٹنے اور گھنٹی اور ناقوس بجانے کا رواج ہے اور ان چیزوں کو وہ اصل عبادت کا ضروری حصہ سمجھتے ہیں۔ قرآن نے مشرکین کے عبادتی مراسم کو تالی اور سیٹی کے تابع کر دیا اور تہدیدی انداز میں کہا کہ انھوں نے سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کو عبادت سمجھ لیا ہے۔ حالاں کہ عبادت تقویٰ کا نام ہے نہ کہ کسی قسم کا شور و غل کرنے کا ۔ مشرکین مکہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کعبہ کا طواف کرتے تو نیم برہنہ ہو جاتے۔ وہ کعبہ کے گرد اسی طرح گھومتے تھے جس طرح آج کوئی حاجی گھومتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ یہ کرتے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں باندھ کر اس میں پھونکتے جس سے سیٹی کی سی آواز نکلتی (انهم كانوا يطوفون بالبيت عراة وهم مشبکون بین اصابعهم يصفرون ويصفقون، تفسیر نسفی) اسی طرح جب وہ نماز پڑھتے تو وہ بھی عام نمازیوں کی طرح سجدہ میں جاتے مگر اس وقت وہ اپنے رخسار زمین پر رکھ دیتے اور اسی کے ساتھ تالیاں بجاتے اور کلمات عبادت کی ادائیگی کے ساتھ دوسری آوازیں نکالتے (انهم كانوا يضعون خدودهم علی الارض ويصفقون ویصفرون، تفسیر ابن کثیر)
موجودہ زمانہ میں عبادتی مواقع پر جس طرح لاؤڈ اسپیکروں کا شور بلند ہوتا ہے اور جس طرح دھوم دھام کے ساتھ دینی تقریبات منائی جاتی ہیں ان پر بھی قرآن کے یہ الفاظ پوری طرح صادق آتے ہیں۔ ان مواقع پر اگرچہ حسب قاعدہ کچھ عبادتی افعال بھی کئے جاتے ہیں مگر ان کی عبادت پر ان کے ہنگامے اس طرح غالب رہتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر ایک درد مند شخص کہہ اٹھے گا :
" انھوں نے شور و غل کو اسلام سمجھ لیا ہے “
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues