Al-Risala · October 1981 · page 45

دین وہی ہے جو آدمی کے اندر گہری تبدیلی پیدا کرے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۵

انصاری رض اٹھے۔ انھوں نے کہا: «واللہ یکانت نريد نا يا رسول اللہ! خدا کی قسم شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے اے خدا کے رسول آپ نے فرمایا " ہاں "۔ اصل یہ ہے کہ انصار نے آپ سے بیعت کی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ مدینہ میں آپ کی حفاظت کریں گے۔ مگر باہر (بدر) جا کر دشمنوں سے لڑنا اس بیعت میں شامل نہ تھا۔ اس لئے ان سے پوچھنا ضروری تھا۔ مقداد بن عرض نے کہا:

اذ لا نقول لك يا رسول اللہ كما قال قوم موسیٰ اس وقت ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح لموسی علیہ السلام اذهب انت وربک فقاتلا موسیٰ کی قوم نے موسیٰ سے کہا تھا تم اور تمھارا رب جا کر انا ههنا قاعدون (البدایہ والنہایہ) لڑے ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے)

سعد بن معاذ رض نے کہا: ہم آپ سے عہد کر چکے ہیں کہ ہم آپ کی سنیں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے ۔ اے خدا کے رسول! چلئے جس چیز کا بھی آپ کا ارادہ ہو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم اپنی سواریاں سمندر میں گھسا دیں تو ہم ان کو سمندر میں گھسا دیں گے۔ اگر آپ حکم دیں کہ ہم اپنی اونٹنیوں کو برک عماد (یمن) تک لے جاتے ہوئے ان کا کلیجہ چھلنی کریں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی اس تقریر سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا چلو۔ اللہ نے تمھارے لئے فتح ونصرت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ زندگی اس کے لئے ہے جو موت سے نڈر ہو جائے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رض نے ایک بار اسلامی سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رض کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے خالد موت کے شیدائی بن جاؤ تم کو زندگی مل جائے گی (یا خالد احرص علی الموت تو هب لك الحياة)

دین وہی ہے جو آدمی کے اندر گہری تبدیلی پیدا کرے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابو ہریرہ پر ہیز گار بنو تم سب سے زیادہ عبادت کرنے والے ہو جاؤ گے ۔ قانع بنو تم سب سے زیادہ شکر کرنے والے بن جاؤ گے ۔ اور لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو تم ایمان والے ہو جاؤ گے۔ اپنے پڑوس والوں کے ساتھ بہتر پڑوسی بن کر رہو تم اسلام والے ہو جاؤ گے ۔ اور ہنسی کم کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دلوں کو مردہ کرتا ہے (یا ابا هريرة كن ورعا تكن اعبد الناس، وكن قنا عا تكن اشكر الناس، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مؤمنا واحسن جوار من جاورک تكن مسلما، واقل الضحك فان كثرة الضحك تميت القلوب، ابن ماجه)

تو بہ نام ہے اپنے کئے پر پچھتانے کا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا التوبة الندم یعنی توبہ یہ ہے کہ آدمی نے جو کچھ کیا ہے اس پر اس کو شرمندگی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page