الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جب کوئی گروہ مل کر رہے اور اختلافات سے بچے تو اس کے بعد اس گروہ کے اندر جو اجتماعی حالت پیدا ہوتی ہے اسی کا نام اتحاد ہے۔ اتحاد کے لئے کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا، وہ اپنے آپ حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔
اتحاد کی کوئی مادی قیمت نہیں۔ تاہم ہر آدمی کو اس کی ایک قیمت دینی پڑتی ہے۔ یہ نفسیاتی قیمت ہے۔ اتحاد کسی گروہ کے اندر صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ اس کے افراد اتحاد کی خاطر مطلوبہ نفسیاتی قیمت دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔
یہ قیمت کیا ہے۔ یہ ذاتی بڑائی کی قربانی ہے۔ انسان کے اندر بڑا بننے کا جذبہ بے پناہ حد تک پایا جاتا ہے۔ یہی جذبہ اتحاد کے راستہ کی اصل رکاوٹ ہے اور یہی جذبہ وہ واحد چیز ہے جس کو قربان کر کے اتحاد قائم ہوتا ہے۔ جہاں ہر آدمی بڑا بننا چاہے وہاں اس کے نتیجہ میں جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ انتشار ہے۔ اور جہاں لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ دوسرے کے مقام کو تسلیم کرتے ہوئے چھوٹا بننے پر راضی ہو جائیں وہاں اس کے بعد جو چیز وجود میں آتی ہے اسی کا نام اتحاد ہے۔ اپنے کو چھوٹا بنانا یا اپنے کو دوسرے درجہ پر رکھنا بظاہر مشکل کام ہے مگر جب یہ دیکھا جائے کہ یہ سارا کا سارا ذہنی معاملہ ہے تو اس سے زیادہ آسان اور کوئی چیز نہیں۔ اپنے کو بڑا بنا کر خوش ہونا یا اپنے کو چھوٹا بنتے دیکھ کر تکلیف محسوس کرنا دونوں ذہنی کیفیات ہیں۔ وہ ذہن کے اندر پیدا ہوتی ہیں اور ذہن کے اندر ہی انہیں ختم کیا جاسکتا ہے ۔ آدمی اگر اپنے سوچنے کے زاویہ کو بدل دے تو ایک لمحہ میں وہ ایک ایسا سفر طے کر سکتا ہے جو اس کو اور اسی کے ساتھ پوری قوم کو کچھ سے کچھ بنادے ۔ اتحاد اس حکمت کا عملی نتیجہ ہے کہ اپنے سوا دوسرے کی بڑائی کو مان لیا جائے، خواہ یہ ماننا بربنائے حقیقت ہو یا بربنائے ضرورت ۔ حضرت عمر فاروق کا حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کو مان لینا اسلامی تاریخ میں پہلی صورت کی مثال ہے اور حضرت حسن بن علی کا حضرت معاویہ کی خلافت پر راضی ہو جانا دوسری صورت کی مثال ۔ ان دو چیزوں کے سوا اتحاد کی کوئی تیسری بنیاد نہیں۔
اتحاد قائم کرنے کے لئے بظاہر آدمی اپنی ذات کی قربانی دیتا ہے۔ مگر اپنی ذات کو کھو کر وہ زیادہ بہتر طور پر اپنی ذات کو حاصل کر لیتا ہے۔ اتحاد کے بغیر وہ صرف ایک شخص ہے۔ مگر اتحاد کے ساتھ وہ ایک پوری قوم بن جاتا ہے۔ اتحاد قوم کی طاقت ہے اور اسی کے ساتھ فرد کی طاقت بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues