باہمی اختلاف
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۶
باہمی اختلاف
و اطیعوا الله ورسوله ولا تنا زعوا I اے مسلمانو! اللہ کی اطاعت کرو۔ اس کے رسول کی اطاعت فتفشلوا وتذهب ريحكم واصبروا I کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمھارے اندر کمزوری ان الله مع الصابرين (انفال ۴۶) آجائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
مسلمان اگر مل جل کر رہیں ۔ وہ اللہ اور رسول کی مرکزیت کے گرد متحد رہیں تو وہ زبردست طاقت ہوتے ہیں۔ دیگر قوموں کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ ان کے اکثر کام محض رعب ود بد بہ سے انجام پاتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ان میں آپس کا اختلاف پیدا ہو جائے تو دوسروں کی نظر میں ان کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ ان کے دشمن ان پر ہاتھ ڈالنے کے لئے جری ہو جاتے ہیں ۔
اتحاد و اتفاق کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صبر ہے۔ کیوں کہ جب بھی بہت سے لوگ ایک ساتھ رہیں گے تو ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں پیدا ہوں گی ۔ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے گی۔ کبھی کسی کی تنقید کسی کو غصہ آئے گا، کبھی کسی کی ترقی سے کسی کے دل میں جلن پیدا ہوگی ۔ کبھی لین دین میں ایک دوسرے کا مفاد ٹکرائے گا ۔ کبھی ایک شخص کی امیدیں دوسرے سے پوری نہ ہوں گی اور اس کے جذبات کو ٹھیس لگے گی۔ اس طرح کے بہت سے اسباب ہیں جو بلازما ئیدا ہوں گے ۔ ان اسباب کی پیدائش کو روکنا ممکن نہیں ہے ۔ ممکن صرف یہ ہے کہ آدمی ناخوش گواریوں کو سہے اور جب بھی اس قسم کی کوئی صورت پیش آئے تو اللہ کے لئے اس پر صبر کرے ۔ اختلاف کو برداشت کرنے کی زمین پر اتحاد وجود میں آتا ہے نہ کہ اختلاف کو ختم کرنے کی زمین پر۔ جو لوگ اختلاف اور شکایت کو برداشت کر کے متحد رہ سکیں وہی اپنے درمیان اتحاد قائم کرتے ہیں ۔ زندگی کی بیشتر کامیابیوں کا راز صبر ہے اور اسی طرح اتحاد کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد نام ہے اختلاف کے باوجود متحد رہنے کا۔ اگر یہ برداشت اور یہ وسعت ظرف نہ ہو تو اتحاد کبھی وجود میں نہیں آسکتا۔
آج ہر طرف مسجدیں بھر رہی ہیں ۔ ہر جگہ بے شمار لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس کے باوجود مسلمان کیوں ذلیل ہو رہے ہیں ۔ مسلمانوں پر اللہ کی نصرت کیوں نازل نہیں ہوتی۔ اتنے بے شمار لوگ اللہ سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں، پھر بھی اللہ ان کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے مسلمانوں کا باہمی اختلاف۔ خدا سے جڑنے کے لئے ہر آدمی مسجد کی طرف بھاگ رہا ہے مگر انسان سے جڑنے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ انفرادی عبادت ہر ایک کر رہا ہے۔ مگر اجتماعی عبادت جس کا دوسرا نام اتحاد ہے ، اس میں اپنے کو شامل کرنے کی اہمیت کو کوئی نہیں جانتا ۔
با عزت زندگی ایک ایک مسلمان کو الگ الگ نہیں مل سکتی ۔ وہ جب بھی ملے گی پورے گروہ کو یکجائی طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues