Al-Risala · November 1981 · page 10

امت مسلمہ کی طاقت: اتحاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۰

امت مسلمہ کی طاقت: اتحاد

قرآن میں تکمیل دین کی آیت کے تحت ارشاد ہوا ہے ـــــ آج کفر کرنے والے لوگ تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، اب تم ان سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ سے ڈرو (مائدہ ۳) یہ آیت حجة الوداع کے موقع پر سنہ ۱۰ھ میں نازل ہوئی۔ اس کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اور اصحاب رسول کی جدوجہد کے بعد اسلام کی تاریخ جہاں پہنچ چکی ہے وہ اتنی مضبوط ہے کہ اسلام اب اپنی ذاتی بنیادوں پر قائم ہوگیا ہے۔ اب اسلام بیرونی خطرات کی زد سے نکل گیا ہے، اب اس کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے تو اندر کی طرف سے نہ کہ باہر کی طرف سے۔ مذکورہ آیت میں امت مسلمہ کے لئے اللہ کا یہ کھلا ہوا وعدہ ہے کہ اب اس کے لئے تشویش کی بات نہیں ہے کہ اس کے اوپر اس کے دشمن غلبہ پالیں۔ بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ امت کے افراد میں اللہ کا ڈر باقی نہ رہے۔ اب مسلمانوں کے لئے کمزوری کی بات خوف خدا کا نہ ہونا ہے نہ کہ کسی خارجی قوت کے مقابلہ میں ان کا کمزور ہونا۔ یہ اعتقادی بات نہیں ہے بلکہ وہ معلوم حقائق پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کے معاملہ کو اللہ نے یہاں تک پہنچایا کہ زمین کے بڑے رقبہ پر ان کا قبضہ ہوگیا۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ وہ اس اندیشہ سے باہر نکل گئے کہ محض تعداد کی کمی کی وجہ سے وہ کسی کے مقابلہ میں شکست کھا سکیں۔ ان کے پاس بہترین اقتصادی خطے ہیں۔ انتہائی اہم فوجی مقامات پر ان کا قبضہ ہے۔ ہر قسم کی صلاحیتوں والے افراد رات دن ان کے یہاں پیدا ہورہے ہیں۔ ان کو ایک ایسی کتاب حاصل ہے جو ان کو ساری دنیا میں فکری برتری عطا کر سکے۔ ان کی تاریخ اتنی شان دار ہے جو قیامت تک ان کی نسلوں کو جوش و ولولہ کی خوراک دینے کے لئے کافی ہے۔

جس قوم کے پاس برتری کے اتنے اسباب جمع ہو جائیں باہر کی کوئی قوم اس کو زیر کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی، الا یہ کہ اس نے اپنی حماقت سے اپنے کو کمزور کر لیا ہو۔ اور یہ حماقت دراصل اندرونی اختلاف ہے قوم کے افراد جب اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ انصاف کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں یہ پورا معاشرہ حسد اور بغض کی نفسیات سے پاک ہوتا ہے۔ اور جس معاشرہ کا یہ حال ہو اس میں باہمی اتحاد کے سوا کیا چیز جنم پائے گی ۔ اس کے برعکس جب قوم کے افراد اللہ سے بے خوف ہو جائیں تو ہر ایک دوسرے کی کاٹ میں لگ جاتا ہے۔ ہر آدمی خود غرضی کے خول میں سمٹ جاتا ہے۔ بدخواہی، انتقام اور حسد سے پورا معاشرہ کھو کھلا ہو جاتا ہے ـــــ اللہ کا ڈر اتحاد کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب سے بڑی طاقت ہے۔ اللہ سے نڈر ہو جانا اختلاف پیدا کرتا ہے اور جو قوم باہمی اختلافات کی شکار ہو جائے وہ لازماً کمزور ہو جاتی ہے خواہ اس کی تعداد و نظاہر کتنی ہی زیادہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page