Al-Risala · November 1981 · page 43

لڑائی کے ساتھ تعمیر نہیں ہوتی

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳

لڑائی کے ساتھ تعمیر نہیں ہوتی

لنڈن بی جانسن (۱۹۰۸- ۱۹۷۳) جان کینیڈی کے قتل کے بعد ۱۹۱۶۳ میں امریکہ کے صدر بنائے گئے۔ وہ امریکہ کے پہلے صدر تھے جن کو ۶ ملین ووٹوں کی اکثریت سے صدر چنا گیا۔ صدر جانسن کو امریکہ کے اندرونی مسائل سے خصوصی دل چسپی تھی۔ ان کے چھ سالہ صدارت کے زمانہ میں ملک کی اندرونی اصلاح کے لئے سول رائٹس بل اور دوسرے کئی اہم قوانین پاس ہوئے۔ ان کے ذہن میں یہ پروگرام تھا کہ امریکہ کو عظیم سماج (Great Society) بنائیں۔ مگر جلد ہی وہ ویت نام کی جنگ میں الجھ گئے جو ان کے بعد اس طرح ختم ہوئی کہ اس نے امریکہ کی بنیادیں ہلا دیں۔ کہا جاتا ہے کہ ویت نام کی بارہ سالہ جنگ میں امریکہ کے ۳۶۰۰ جیٹ طیارے اور ۵ ہزار ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ تقریباً ۵۰ ہزار امریکی مارے گئے اور تین لاکھ سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اسی نسبت سے دوسرے نقصانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق دور حاضر کی اس طویل ترین جنگ میں امریکہ کے تقریباً ایک سو کھرب ڈالر برباد ہوئے۔

صدر جانسن نے امریکہ کو دنیا کا عظیم ترین سماج بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ انھوں نے امریکہ کو اس قدر کمزور کر دیا کہ وہ دوسرے درجہ کی طاقت بننے کی طرف چل پڑا۔ مسلسل واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ امریکہ زوال کی طرف جا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں وہ روس کے مقابلہ میں دوسرے درجہ کی طاقت بن جائے گا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکہ ، صدر جانسن کے زمانہ میں، ایک ایسی ہولناک جنگ میں الجھ گیا جس سے بربادی کے سوا کچھ اور ملنے والا نہ تھا۔ جب بھی آدمی کسی مقصد کو حاصل کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ وہ مقصد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے ۔ آپ اپنے کمرہ کی دیوار کو سفید دیکھنا چاہتے ہوں تو آپ کے لئے لازم ہے کہ کمرہ میں کوئلہ کی انگیٹھی نہ جلائیں۔ کوئی شخص اپنی معاشی زندگی کی تعمیر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ قتل اور مقدمہ بازی جیسی چیزوں میں نہ الجھے۔ یہ اصول فرد کے لئے بھی ضروری ہے اور قوم کے لئے بھی۔ سیاست لڑنے بھڑنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے کو طاقت ور بنانے کا نام ہے۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ امن کے زمانہ میں جتنا زیادہ پسینہ بہاؤ گے ، جنگ کے زمانہ میں اتنا ہی کم خون بہے گا۔ حقیقی جنگ یہ ہے کہ جنگ سے پہلے اتنی تیاری کی جائے کہ جنگ کے بغیر صرف دھمکی سے کام چل جائے اور اگر جنگ کرنی ہی پڑے تو معمولی نقصان کے بعد جنگ کا فیصلہ ہو جائے۔ کسی قوم کو ترقی یافتہ بنانے کا کام تعمیری سرگرمیوں کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ جنگی اقدام سے۔ یقیناً زندگی میں اشتعال کے مواقع آتے ہیں جو آدمی کو جنگ اور مقابلہ آرائی کی طرف کھینچتے ہیں۔ مگر عقل مند وہ ہے جو ایسے موقع پر صبر و تحمل سے کام لے نہ کہ جوش میں آ کر جنگ کے میدان میں کود پڑے ۔ جنگ سے پہلے جنگ سے بچنا صرف جذبات کی قربانی مانگتا ہے مگر جنگ میں کودنے کے بعد جنگ کو چھوڑنے کے لئے مفاد کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اور پہلی چیز کے مقابلہ میں دوسری چیز یقیناً زیادہ بھاری ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page