Al-Risala · December 1981 · page 2

توحید اور مساوات

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲

توحید اور مساوات

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دو لفظوں میں یہ تھا ــــــــــ توحید اور مساوات۔ یعنی خدا کو ایک ماننا، اور تمام انسانوں کو برابر سمجھنا۔ آپ نے بتایا کہ اس دنیا کو بنانے والا ایک ہی خدا ہے، وہی سب کو پال رہا ہے اور اسی کے سامنے زندگی کا حساب دینے کے لئے سب کو حاضر ہونا ہے۔ توحید خدا ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اس کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ انسان کی فطرت اور چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات دونوں پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ خدا کو ضرور مانا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مصیبت کا لمحہ آتا ہے تو ہر آدمی کو خدا یاد آ جاتا ہے۔ خدا کا انکار کرنے والے بھی نازک وقتوں میں خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ تاریخ کا کوئی ایسا دور نہیں ہے جب کہ لوگ عمومی پیمانہ پر خدا کے منکر بن گئے ہوں۔ تاہم خدا کو ماننے کے باوجود ہر دور میں دو خاص غلطیاں پائی جاتی رہی ہیں۔

۱۔ مظاہر کائنات کو خدا سمجھ لینا۔

۲۔ دکھائی دینے والی چیزوں پر نہ دکھائی دینے والے خدا کو قیاس کرنا۔

آدمی کے اندر اپنے خالق کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے دل میں جذبہ اٹھتا ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے، وہ اس کے ساتھ اپنے کو جوڑے۔ آدمی اگرچہ خدا کو نہیں دیکھتا۔ مگر وہ خدا کی مخلوقات کو دیکھتا ہے۔ یہاں آدمی نے یہ کیا کہ اس نے دکھائی دینے والی چیزوں میں جو چیز نمایاں اور برتر نظر آئی اس کو خدا فرض کر لیا۔ مثلاً سورج، چاند، ستارے، وغیرہ۔ اس نے اصولی طور پر خدا کے وجود کو مانا۔ مگر اس نے اس طرح مانا کہ جو چیز خدا نہیں تھی اس کو محض اپنی اپیچ کی بنا پر خدا بنالیا۔ دوسرے لوگوں نے کائناتی مظاہر کو خدا نہیں کہا۔ مگر انہوں نے اسی سے ملتی جلتی ایک اور غلطی کی۔ انہوں نے نظر آنے والی چیزوں پر اس خدا کو قیاس کر لیا جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ مثلاً دنیا میں ہر چیز کی کئی ہوتی ہے۔ انہوں نے خدا کو بھی کئی مان لیا۔ دنیا میں بڑے لوگوں کے کچھ قریبی اور سفارشی ہوتے ہیں۔ انہوں نے خدا کے یہاں بھی بہت سے مقرب اور سفارشی فرض کر لئے۔ انسان بیٹے بیٹیاں رکھتا ہے۔ انہوں نے خدا کے لئے بھی گمان کر لیا کہ اس کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ وہ خالق کو مان کر اس کو مخلوق کی سطح پر اتار لائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے عقیدہ کو اس قسم کی ملاوٹوں سے پاک کیا۔ اور اس کو خالص توحید کی صورت میں انسان کے سامنے پیش کیا۔ قرآن میں حکم ہوا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ وہ اللہ ایک ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page