محفوظ سفر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۰
محفوظ سفر
جولائی ۱۹۶۹ میں امریکہ نے انسان بردار راکٹ چاند کی طرف بھیجا تھا۔ اس راکٹ کی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ جب اس کی پہلی منزل کا انجن داغا گیا تو ایک بے حد ہولناک آواز پیدا ہوئی۔ یہ آواز اتنی تیز تھی کہ اس نے ایک سو میل کے رقبہ کو ہلا دیا۔ مگر جو خلا باز اس راکٹ میں سفر کر رہے تھے، ان کو صرف دس سیکنڈ بعد یہ آواز سنائی دینا بند ہوگئی۔ وہ کان کے پردے پھاڑ دینے والی اس آواز سے محفوظ ہو کر اپنے سفر پر رواں ہو گئے۔
ایسا کیوں کر ہوا۔ اس کی وجہ انسان بردار راکٹ کی تیز رفتاری تھی۔ آواز معمولاً ہوا کے ذریعہ پھیلتی ہے، اس لئے اس کی رفتار سات سومیل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ جب کہ راکٹ کی رفتار ۲۵ ہزار میل فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تھی۔ رفتار کے اس فرق کی وجہ سے ایسا ہوا کہ صرف دس سیکنڈ بعد راکٹ اس خوفناک آواز کی زد سے باہر جا چکا تھا۔ آواز سات سومیل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی اور راکٹ ۲۵ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ اس فرق کا یہ نتیجہ ہوا کہ ابتدائی لمحات کے بعد راکٹ کے پھٹنے کی آواز خلا بازوں کے کنٹرول روم تک پہنچنا بند ہوگئی۔ خلا باز بھیانک آواز پیدا کرنے والی سواری میں سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے باوجود اس کی بھیانک آواز سے ان کے کان محفوظ تھے۔
اسی طرح ہر شخص اور ہر قوم کی زندگی میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ناخوش گوار حالات اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اب اگر وہ اپنی جدوجہد کی رفتار اتنی تیز کر لے کہ ناخوش گوار حالات کے مقابلہ میں اس کی رفتار بڑھ جائے تو وہ ان کی زد سے نکل جائے گا، وہ ان سے اسی طرح محفوظ ہو جائے گا جس طرح خلا باز اپنے راکٹ کے پھٹنے کی طوفانی آواز سے محفوظ ہو گئے۔
زندگی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک شخص یا قوم کے لئے ممکن ہے کہ یہاں بھی وہ ایسا سفر کر سکے جس میں وہ دوسروں کی زد سے محفوظ ہو۔ اگر دوسرے جلد بازی کی رفتار سے چل رہے ہوں اور آپ صبر کی رفتار سے چلنے لگیں۔ دوسرے منفی کارروائیوں کی بنیاد پر اٹھے ہوں اور آپ مثبت عمل کا طریقہ اختیار کریں۔ دوسرے مادی طاقت کے سہارے بڑھیں اور آپ اخلاقی طاقت کے زور پر کھڑے ہوں۔ دوسرے ظاہری انسان سے ٹکرا رہے ہوں اور آپ اندرونی انسان کو اپنا نشانہ بنائیں۔ تو یقینی ہے کہ آپ لوگوں کی زد سے اسی طرح باہر ہوں گے جس طرح راکٹ سوار اپنے راکٹ کی بھیانک آواز سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues