Al-Risala · December 1981 · page 40

زندگی کا اسٹیج

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰

زندگی کا اسٹیج

حیدر آباد کا واقعہ ہے۔ ۲۱ ستمبر ۱۹۸۱ء کو مسٹری کے راما ریڈی (۹۰ سال) اور ان کی ۸۰ سالہ بیوی پھولابائی رات کے وقت اپنے گھر واقع بنجارہ ہلز میں سورہے تھے۔ ان کے علاوہ ان کے گھر میں اس وقت صرف ان کا ملازم رامیا (۵۰ سال) تھا۔ رامیا نے عین نیند کی حالت میں کلہاڑی سے بوڑھے میاں بیوی پر حملہ کیا اور نہایت بے دردی کے ساتھ دونوں کو مار ڈالا۔ اس کے بعد رامیانے بکس سے تقریباً ایک لاکھ روپے کے ہیرے اور زیورات نکالے اور رات کی تاریکی میں گھر سے باہر نکل گیا۔

راستہ چلتے ہوئے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں پولیس کے دو آدمی رات کی ڈیوٹی میں پہرہ دے رہے تھے۔ ان کو شبہ ہوا چنانچہ انھوں نے رامیا کو پکڑ لیا۔ پوچھ گچھ اور ڈرانے دھمکانے کے بعد اس نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا اور چرایا ہوا مال پولیس کے حوالے کر دیا۔ دونوں پولیس کے آدمیوں نے رامیا کو اور اس سے برآمد شدہ مال کو لے جاکر تھانہ میں جمع کر دیا۔ ان کا نام شیخ محبوب اور ایس ایم رشید بتایا گیا ہے۔ محکمہ پولیس کے افسران کے علم میں یہ واقعہ آیا تو وہ شیخ محبوب اور ایس ایم رشید کی کارکردگی اور دیانت داری سے بہت خوش ہوئے اس کے بعد دونوں کو نقد انعامات دئے گئے اور اسی کے ساتھ دونوں کو ترقی بھی دے دی گئی۔ شیخ محبوب کو اسٹیشن آفیسر کے عہدہ پر تعین کر دیا گیا اور ایس ایم رشید کو ہیڈ کانسٹیبل بنا دیا گیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ایک واقعہ بیک وقت دو آدمیوں کے لئے دو معنی کا حامل ہوتا ہے۔ ایک واقعہ پیش آتا ہے مگر اسی ایک واقعہ سے ایک شخص کو کریڈٹ دیا جاتا ہے اور دوسرے شخص کو ڈس کریڈٹ کیا جاتا ہے۔ ایک شخص کو قاتل ثابت کر کے مجرم کے خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے اور دوسرے شخص کو ایماندار اور فرض شناس ظاہر کر کے انعام کا مستحق بنا دیا جاتا ہے۔

دنیا میں جتنے واقعات پیش آتے ہیں سب کی نوعیت یہی ہے۔ یہاں کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ یہاں کوئی شخص کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتا اور نہ نقصان نہ کوئی کسی کو زندگی دے سکتا اور نہ موت۔ تاہم یہ سارے واقعات یہاں ایک یا دوسرے کے ہاتھ سے پیش آتے ہیں۔ دنیا ایک قسم کا خدائی اسٹیج ہے۔ یہاں مختلف حالات پیدا کر کے خدا ہر ایک کو یہ موقع دیتا ہے کہ اس کے اندر جو کچھ ہے اس کو وہ علی الاعلان ظاہر کر دے۔ جو شخص مجرمانہ ذہن لئے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات پا کر جرم کرے اور خدا کے قانون کے مطابق سزا کا مستحق ہو۔ جو شخص اپنے اندر حق پرستی کا ذہن لئے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات میں حق اور انصاف کا معاملہ کرے تاکہ وہ خدا کے یہاں انعام اور قدر افزائی کے لائق ٹھہرے۔

| رسال دسمبر ۱۹۸۱ء

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page