عقل سے کام نہ لینا
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۵
یہ انسان!
حضرت مسیح کے وعظوں میں سے ایک وعظ میں داعی اور مدعو کی تمثیل ہے۔ یہاں ہم اس تمثیل کا عربی اور اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں:
ومن أشبه ھذا الجيل - یُشبَّه اولاداً پس اس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہہ دوں جالسين فى الأسواق ينادون الى اصحابھم وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے ویقولون : زمورنا لكم فما رقصتم وندبنا اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں۔ ہم نے تمہارے لیے لكم فما بكيتُم (متی ۱۱: ۱۶) بانسری بجائی اور تم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کیا اور تم نہیں روئے خدا کا داعی خدا کے سمندر میں نہاتا ہے۔ اس طرح اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کے گیت گائے۔ وہ فطرت کے ساز پر خدا کے ابدی نغمے چھیڑے۔ ان نغمات میں ایک طرف خدا کے حسن و کمال کی تجلیاں ہوتی ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کو سن کر آدمی رقص کراٹھے۔ دوسری طرف ان نغمات میں خدا کی تبیہات ہوتی ہیں جو ایک حساس انسان کو تڑپا کر اسے رلا دیں۔ داعی خدا کے جمال و جلال کا مظہر ہوتا ہے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ان چیزوں سے کوئی اثر نہیں لیتا۔ داعی کے کلام کی صورت میں خدا بالکل اس کے قریب آجاتا ہے۔ مگر اس وقت بھی وہ خدا کو نہیں پاتا۔ اس میں نہ حمد خدا وندی کی کیفیات جاگتیں اور نہ خوف خدا سے اس کی آنکھیں تر ہوتیں ۔ وہ نازک ترین پیغامات کو بھی پتھر کی طرح سنتا ہے نہ کہ اس انسان کی طرح جس کو خدا نے وہ عقل دی ہے جو باتوں کی گہرائی کو پالے اور وہ دل دیا ہے جو درد سے تڑپ اٹھے۔ خدا کی طرف سے ایک پکار نے والے کا وجود میں آنا کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں آنا نہیں ہے۔ یہ روح انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہونا ہے جس کی شدت آتش فشاں پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔ داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس کے نغمہ محض نغمے نہیں ہوتے بلکہ روح انسانی میں ایک خدائی بھونچال کی آواز ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا کا شاید یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو متاثر نہیں کرتے۔ داعی اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے سامنے "نذیر عرياں" بن جاتا ہے ، اس کے باوجود وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ انسان کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں پھر بھی وہ وجد میں نہیں آتا۔ اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے پھر بھی اس پر گریہ طاری نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے خدا خود آکر کھڑا ہو جاتا ہے پھر بھی وہ سجدہ میں نہیں گرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدا نے کوئی نہیں بنائی مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی کوئی نہیں دیتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues