Al-Risala · February 1981 · page 4

ایک کے بعد دوسرا

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۴

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلی صدی ہجری میں اسلام کا مقابلہ شرک سے پیش آیا تھا، چودھویں صدی ہجری میں اسلام کا مقابلہ الحاد سے پیش آیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے مرحلہ میں صرف چوتھائی صدی کی کوششوں سے نظام شرک کی جڑ اکھڑ گئی۔ اس کے بعد ایسا انقلاب آیا جس کے اثرات تقریباً ایک ہزار سال تک پوری قوت کے ساتھ باقی رہے۔ اس کے برعکس دوسرے مرحلہ میں بے پناہ کوشش کرنے کے بعد بھی نتیجہ بالکل صفر رہا۔ دور الحاد میں جدوجہد اور قربانی کی غیر معمولی مقدار پیش کرنے کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جو دور شرک میں اس کو حاصل ہوئی تھی۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا اسلام اب ایک ختم شوہ طاقت (Spent Force) ہے۔ کیا موجودہ دور میں اسلام اپنی دہ فکری اہمیت کھو چکا ہے جو قدیم دور میں اس کو حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب یقینی طور پر نفی میں ہے۔ اسلام قیامت تک کا دین ہے اور اسلام کے لئے کائنات کے مالک نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ غالب رہے (الاسلام يعلو ولا يعلی علیہ) اس لئے اسلام نہ اپنی نظریاتی معنویت کو کبھی کھو سکتا اور نہ ہی ممکن ہے کہ اس کو سر بلند کرنے کی مطلوبہ جدوجہد کی جائے اس کے باوجود اس کو سر بلندی حاصل نہ ہو۔

اصل یہ ہے کہ یہ امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا نے مختلف قسم کے لوگوں کو یکساں طور پر اپنا کام کرنے کا موقع دیا ہے۔ یہاں خود خدا کی مقررہ سنت کے مطابق یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کا دشمن بنتا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو گرا کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے (بعضكم لبعض عدو) اس لئے موجودہ دنیا میں کسی کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں کام کرنے والی دوسری قوتوں کو سمجھے، ان کے مخالفانہ منصوبوں کو نا کام بنا کر اپنے لئے راستہ نکالے۔ اس دنیا میں کبھی کسی کو خالی میدان نہیں مل سکتا جس میں وہ بے روک ٹوک مارچ کرتا ہوا چلا جائے ۔ مخالفت قوتوں کو نا کام بنا کر غالب آنے کی صراط مستقیم (فتح) خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر بتادی ہے اور رسول کی سنت میں اس کا کامل عملی نمونہ موجود ہے۔ جس طرح زراعت کے بارے میں قوانین قدرت کی پابندی کر کے فصل اگائی جاتی ہے اسی طرح یہ بالکل ممکن ہے کہ اس صراط مستقیم کی پیروی کر کے تمام مخالف سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے اور اسلام کو غلبہ کا وہ مقام دلا دیا جائے جو ازل سے اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔

اس صراط مستقیم کا خلاصہ یہ ہے کہ تحریک کو خالص مثبت بنیادوں پر اٹھایا جائے ۔ مخالفین کے قسم کے اشتعال کے با وجود اہل اسلام کا سکینہ (تحمل) برہم نہ ہو۔ ان کی خدا پرستی اس بات کی یقینی ضمانت بن جائے کہ وہ کسی حال میں حمیت جاہلیہ کا جواب حمیت جاہلیہ سے نہ دیں گے بلکہ ہمیشہ تقویٰ کی روش پر قائم رہیں گے (فتح ۲۶) موجودہ زمانہ میں اسلام کی سر بلندی کی جدوجہد کے کامیاب نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا کی مقرر کردہ صراط مستقیم پر نہیں چلایا گیا بلکہ خود ساختہ راہوں پر چلایا گیا۔ اور خدا کی دنیا میں خدا ہی کی صراط مستقیم پر چل کر کامیابی ممکن ہے۔ کسی اور راہ پر دوڑنے والا یہاں کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page