Al-Risala · February 1981 · page 10

سائنس اسلامی انقلاب سے پیدا ہوئی

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۰

ہوئے تھے۔ تاریخ کے اس دور کو یورپ کے مورخین تاریک دور (Dark Ages) کہتے ہیں۔ مگر وہ صرف یورپ کے لئے تاریک تھا نہ کہ مسلم دنیا کے لئے۔ ورلڈ بک انسائیکلو پیڈیا کا مقالہ نگار ”ڈارک ایجز“ کے عنوان کے تحت لکھتا ہے :

The term 'dark ages' cannot be applied to the splendid Arab culture which spread over north Africa and into Spain. (P. 30)

تاریک دور کی اصطلاح شان دار عرب کلچر پر چسپاں نہیں ہوتی جو اس زمانہ میں شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیلا ہوا تھا۔ شرک کس طرح سائنسی تحقیق میں رکاوٹ تھا، اس کی وضاحت کے لئے یہاں ہم ایک مثال نقل کریں گے۔ قدیم یونان میں زمین اور سورج کی گردش کے بارے میں دو نظریے پیش کئے گئے تھے۔ ایک تھا ارسٹارکس کا نظریہ جس میں زمین کو سورج کے گرد گھومتا ہوا فرض کیا گیا تھا۔ دوسرا بطلمی کا نظریہ جس کے مطابق سورج زمین کے گرد گھوم رہا تھا۔ پہلے نظریہ کے مطابق زمین بظاہر گول تھی اور دوسرے نظریہ میں چپٹی۔ قسطنطین (۳۳۷-۳۲۷ء) کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد جب مسیحیوں کو یورپ میں غلبہ ہوا تو انھوں نے بطلمی کے نظریہ کی سرپرستی کی اور دوسرے نظریہ کو بے نور کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسیحیت نے حضرت مسیح کو خدا فرض کر لیا تھا اس عقیدہ کے مطابق زمین کو یہ تقدس حاصل تھا کہ وہ خداوند کی جنم بھومی ہے۔ اور جو کرہ خداوند کی جنم بھومی ہو وہ کسی دوسرے کرہ کا تابع (Satellite) کس طرح ہو سکتا تھا۔ زمین کو اس طرح مقدس سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بارے میں تحقیقی کام آگے نہ بڑھ سکا۔ مشر کا نہ مذہب اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کی مزید تفصیلی مثالیں ڈریپر (۱۸۸۲-۱۸۱۱) کی کتاب مذہب اور سائنس کا تصادم (Conflict between Science and Religion) میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

عباسی خلیفہ المامون (۸۳۳ - (۸۳۳-۷۸۶) کے زمانہ میں بیت الحکمت قائم ہوا اور حکومت کے خصوصی تعاون کے تحت دونوں قسم کے ترجمے عربی زبان میں کئے گئے ۔ مسلمانوں نے جب اعتقادی پیچیدگی سے آزاد ہو کر دونوں نظریات کو جانچا تو ان کو پہلا نظریہ حقیقت سے قریب تر نظر آیا ، خلیفہ المامون جو خود بھی بہت بڑا عالم تھا، اس نے اس مسئلہ کی اہمیت کو محسوس کیا۔ اس نے ہیئت و جغرافیہ کے عالموں کو حکم دیا کہ وہ زمین کو گول فرض کرتے ہوئے اس کا محیط (Circumference) معلوم کریں اور اس کے لئے کسی کھلے میدان میں ایک زمینی درجہ (Terrestrial Degree) کی لمبائی کی پیمائش کریں اور اس کے بعد اس سے زمین کی پوری گولائی کا اندازہ کریں۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے پاس آلات حساب کے نام سے صرف زاویہ ناپنے کا سادہ آلہ (Quadrant) اصطرلاب، دھوپ گھڑی اور معمولی گلوب تھے۔ اس قسم کی چند چیزوں کے ذریعہ انھوں نے اپنی جدوجہد شروع کر دی۔

اس مقصد کے لئے سنجار (Palmyra) کا وسیع ہموار میدان منتخب کیا گیا۔ ایک مقام پر قطب شمالی کی بلندی کے ساتھ زاویہ قائم کر کے شمال کی جانب جریب سے ناپنا شروع کیا۔ ۵۶ میل شمال کی جانب جانے سے قطب شمالی کی بلندی کے زاویہ میں ایک درجہ کی لمبائی بڑھ گئی۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ جب ایک درجہ کی مسافت سطح زمین پر

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page