Al-Risala · February 1981 · page 13

اسلام میں سائنس کی اہمیت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳

وہ مغربی علوم کے بھی دشمن بن گئے۔ جب کہ دوسری قومیں مغرب سے ان کے علوم سیکھ رہی تھیں، مسلمان ان کو دشمن کی چیز سمجھ کر ان سے دور بھاگ رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان دوسری قوموں سے کم از کم سو سال علم میں پیچھے ہو گئے، قوموں کے اوپر علمی امام بننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ۲- مزید نقصان یہ ہوا کہ طویل غفلت کے بعد مسلمانوں میں جو لوگ علم کے مبلغ بن کر اٹھے وہ اس کام کے پوری طرح اہل نہ تھے۔ انھوں نے ایک صحیح کام کو غلط طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ان کو وہ قبولیت حاصل نہ ہوسکی جو باعتبارِ حقیقت انھیں حاصل ہونی چاہئے تھی۔

مثال کے طور پر علمِ جدید کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے انھوں نے یہ کیا کہ قرآن وحدیث میں جہاں جہاں ’’علم‘‘ کا لفظ آیا ہے اس کو انھوں نے ان سیکولر علوم کا مصداق بتایا جو آج یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ یہ ایک صحیح بات کے لئے غلط دلیل پیش کرنا تھا۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن وحدیث میں جس علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے اس سے مراد علم دین ہے نہ کہ سیکولر یا سائنسی علوم۔ ان علوم کو حاصل کرنا یقیناً مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ مگر ان علوم کی اہمیت آیتِ قوت سے ثابت ہوتی ہے نہ کہ آیتِ علم سے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اس قوت کو حاصل کرو جس سے تمھارے حریفوں کے اوپر تمھاری دھاک قائم ہو۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم نے یہی مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس لئے سائنسی علوم کا حاصل کرنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ سائنسی علوم میں دستگاہ حاصل کئے بغیر مسلمان آج کی دنیا میں قوتِ مرہبہ (انفال ٦٠) کے مالک نہیں بن سکتے، اس لئے اس قرآنی حکم کی تعمیل میں موجودہ حالات کے لحاظ سے یہ بات بھی شامل ہوگی کہ وہ ان علوم کو حاصل کریں اور ان کو اسلام اور مسلمانوں کی تقویت کا ذریعہ بنائیں۔

موجودہ زمانہ کے تعلیمی مصلحین کی اسی غلطی کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کا دینی طبقہ ان کا سخت مخالف ہوگیا۔ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم (حدیث) جیسی نصوص کا مطلب دینی طبقہ کے نزدیک متفقہ طور پر یہ تھا کہ اس سے مراد کتاب وسنت کا علم حاصل کرنا ہے۔ جب تعلیمی مصلحین نے اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو موجودہ زمانہ کے "دنیاوی" علوم پر چسپاں کیا تو دینی طبقہ کو یہ بات سراسر اسلام کی تحریف نظر آئی۔ وہ اس دشمن بن کر کھڑا ہو گیا۔ تعلیمی مصلحین بلاشبہ غلطی پر تھے۔ مگر دینی نمائندوں سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ وہ مقصد اور استدلال دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہ دیکھ سکے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انھیں نظر آتا کہ تعلیمی مصلحین جن علوم کی اہمیت کو آیتِ علم سے غلط طور پر ثابت کر رہے ہیں وہ آیتِ قوت سے بالکل درست طور پر ثابت ہو رہی ہے۔ اس لئے اس معاملہ میں اصل کام استدلال کی تصحیح ہے نہ کہ خود مقصد کو باطل قرار دینا۔

اسلام میں سائنس کی اہمیت

اسلام میں سائنس کی اہمیت کے متعدد وجوہ ہیں۔ یہاں چند چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

۱۔ سائنس، سادہ طور پر، عالمِ حقائق کے مطالعہ کا نام ہے۔ قرآن میں یہی صفت اہل ایمان کی بتائی گئی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page