Al-Risala · January 1981 · page 7

غلطی مان لینے سے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۷

غلطی مان لینے سے

ایک پریس نے ایک مرتبہ ایک بڑے ادارہ کی کتاب چھاپی۔ کتاب کو کر اور مکمل ہو کر ادارہ میں پہنچی تو اس کے بعد ادارہ کے منیجر کا ٹیلی فون آیا۔ وہ کہ پریس کا مالک پہنچا تو ادارہ کا منیجر اس کے اوپر برس پڑا۔ اس نے مطبوعہ کتاب۔ اس کی کٹنگ کتنی غلط ہوئی ہے" پریس کے مالک نے دیکھا تو واقعی کٹنگ ترچھی ہو کم زیادہ نکلا ہوا تھا۔ پریس کے مالک نے دیکھا اور خاموش رہا۔ دوسری طرف ادا آخر جب وہ اپنے تمام الفاظ ختم کر چکا تو پریس کے مالک نے سنجیدگی کے ساتھ کہا " آپ کیوں اس قدر پریشان ہیں نقصان تو ہمارا ہوا ہے، ہم کو پر " کیا مطلب، آپ کا نقصان کیسا “ ظاہر ہے کہ اس حالت میں میں آپ کو کتاب نہیں دے سکتا۔ اس کو تو آپ کو دوسری کتاب چھاپ کر دوں گا۔ یہ میری ذمہ داری ہے۔ خواہ مجھے کتنا ہی | پریس کے مالک کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ ادارہ کے منیجر بگڑتے ہوئے انداز میں بول رہا تھا اب اس کا رویہ ہمدردانہ ہو گیا۔ کیونکہ پریس و کے منیجر کو عام رواج کے مطابق اس کی امید نہیں تھی۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ وہ ؛ پوری تلافی کرنے کے لئے تیار ہے تو اس کا متاثر ہونا بالکل فطری تھا۔ " نہیں آپ اتنا نقصان کیوں برداشت کریں" اس نے اپنا انداز بد دیکھا کہ منیجر کا دل نرم پڑ چکا ہے تو اس نے منیجر سے کہا: ایک شکل سمجھ میں آتی ہے کوشش کرتا ہوں۔ اگر کامیابی ہو گئی تو دوبارہ چھپوانے کی ضرورت نہ ہوگی۔ منیجر۔ کوشش کیجئے۔ اس کے بعد پریس کا مالک کتاب کے دس نسخے لے کر واپس آگیا۔ کتاب کے چاروں کونے دوبارہ صحیح کرائے۔ اب پریس کا مالک اس کو لے کر ادا کر خوش ہو گیا۔ اس نے کہا، بالکل ٹھیک ہے، اسی طرح آپ سب کتابیں درست) " گاہک کی نظر میں جو غلطی ایک انچ کی ہوتی ہے اس کو میں ایک فٹ ۔ پریس کے مالک نے کہا ” یہ در حقیقت کسی کاروبار میں کامیابی کے لئے بے حداً گاہک کو ہر چیز پر راضی کر سکتے ہیں “ بلکہ میرا تو یہ حال ہے، پریس کے مالک نے مزید در وہ میری نظر میں آجاتی ہے تو میں خود ہی گاہک کو بتا دیتا ہوں کہ مجھ سے فلاں غلطی ہو س کے لئے تیار ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گاہک کو ہمدردی ہو جاتی ہے، اور بیشک لسان، جنوری ۱۹۸۱ء

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page