Al-Risala · February 1981 · page 40

بربادی بھی ترقی کا زینہ ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰

بربادی بھی ترقی کا زینہ ہے

ایک انگریز عالم مسٹر آئن نیش (Ian Nish) جاپان گئے۔ انھوں نے وہاں گیارہ سال رہ کر جاپانی زبان سیکھی اور گہرائی کے ساتھ جاپانی قوم کا مطالعہ ا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے مطالعہ اور تحقیق کے نتائج ۳۸ صفحات کی ایک کتاب میں شائع کیا ہے جس کا نام ہے جاپان کی کہانی (The Story of Japan) مصنف لکھتے ہیں : جاپانی قوم کی زندگی کو جس چیز نے سب سے زیادہ گہرائی کے ساتھ متاثر کیا وہ سیاست نہیں تھی بلکہ کانٹو کا عظیم زلزلہ تھا۔ یکم ستمبر ۱۹۲۳ کو زلزلہ کے زبردست جھٹکوں نے مشرقی جاپان کو تہس نہس کر دیا جو کہ جاپان کا سب سے زیادہ آباد علاقہ تھا۔ دوسرا انسانی ساخت کا زلزلہ ۱۹۴۵ میں جاپان کی شکست تھی۔ جب کہ دو ایٹم بموں نے جاپان کے دو انتہائی بڑے شہروں کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا ۔ "زلزلہ" سے اگر تعمیر نو کا ذہن پیدا ہو تو زلزلہ ایک نئی ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس زلزلہ اگر صرف محرومی اور جھنجھلاہٹ کا احساس پیدا کرے تو اس کے بطن سے سیاسی چیخ پکار وجود میں آتا ہے جو نتیجہ کے اعتبار سے اتنا بے معنی ہے کہ اس سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔

کسی انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم چیز عمل کا جذبہ ہے۔ آدمی کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو جائے تو اس کے اندر کی تمام سوئی ہوئی قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ وہ زیادہ بہتر طور پر سوچتا ہے۔ زیادہ کامیاب منصوبہ بناتا ہے اور زیادہ محنت کے ساتھ اپنے کام کی تکمیل میں لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جس آدمی کے اندر عمل کا جذبہ نہ ابھرے وہ اس طرح سست پڑا رہتا ہے جیسے کوئی مشین غیر متحرک حالت میں خاموش پڑی ہوئی ہو۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ اطمینان اور آسودگی کے حالات عام طور پر آدمی کی قوتوں کو سلاتے ہیں، وہ اس کے اندر بیداری پیدا نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جب آدمی کی زندگی کی مشکلوں اور رکاوٹوں سے دوچار ہو تو اس کے اندر چھپی ہوئی قوتوں کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس کی صلاحیتیں اس طرح جاگ اٹھتی ہیں جیسے کوئی آدمی بے خبر سورہا ہو اور اس کے اوپر ایک پتھر گرپڑے ۔ تاہم یہ فائدہ کسی کو اپنے آپ نہیں مل جاتا۔ ہر معاملہ میں ایک ابتدائی حصہ آدمی کو خود ادا کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی آدمی کی زندگی میں کوئی " بربادی " کا واقعہ پیش آئے تو وہ اس کو دوا مکانات کے درمیان کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ یا تو اس سے یہ سبق لے کہ اس کو از سر نو متحرک ہو کر اپنی نئی تعمیر کرنی ہے۔ یا اس سے مایوسی اور شکایت کی غذا لے کر سرد آہیں بھرتا رہے۔ ابتدائی مرحلہ میں آدمی دونوں میں سے جس رجحان کو اپناتا ہے اسی رخ پر اس کی پوری زندگی چل پڑتی ہے۔ اسی کے مطابق اس کی اندرونی صلاحیتیں اپنا عمل کرنے لگتی ہیں۔ جب بھی آدمی کی زندگی میں کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کو حادثہ کو دیکھنے کے بجائے اپنے آپ کو دیکھنا چاہئے۔ مستقبل کے کسی بھی نتیجہ کا سارا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ آدمی حالات کے مقابلہ میں کس قسم کے رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔ تعمیر نو کا جذبہ پیدا ہو تو یہ مثبت رد عمل ہے جو لازماً کامیابی تک پہنچاتا ہے اور اگر احتجاج اور شکایت کا ذہن ابھرے تو منفی رد عمل ہے جس کا آخری انجام مزید بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page