Al-Risala · April 1983 · page 5

یہ گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ نہیں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۵

یہ گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ نہیں

تمام سفروں میں ٹرین کا سفر سب سے زیاوہ تجربات سے بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ انسانی قافلوں کو لے ہوئے تیز رفتار ایکسپریس دوڑی چلی جارہی ہے۔ گاڑی کے دونوں طرف قدرت کے مناظر مسلسل ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس طرح ٹرین گو یا زندگی کے بڑے سفر کی ایک علامت بن گئی ہے جو نشانیوں سے بھری ہوئی ایک دنیا میں انسان طے کر رہا ہے۔ مگر جس طرح ٹرین کے مسافر اطراف کے مناظر سے بے خبر ہو کر اپنی ذاتی دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی بکھری ہوئی نشانیوں پر غور کرے۔

سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے دہ کوئی پیغام سنانا چاہتا ہو۔ مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے غروب ہو جاتا ہے۔ درخت اپنی ہری بھری شاخیں نکالتے ہیں، دریا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔ یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ مگر انسان ان کے پاس سے گزر جاتا ہے۔ بغیر اس کے کہ ان کا کوئی بول اس کے کان میں پڑا ہو۔ آسمان کی بلندیاں ، زمین کی رعنائیاں سب ایک عظیم " اجتماع ” کے شرکاء معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہوا ہے۔ وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔

یہ عظیم کائنات کیا گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ ہے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اور اس کو وہ ابدی زبان میں نشر کر رہا ہے۔ مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ اس کو کائنات کا خاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔ ایک سفر میں ہم ایک درمیانی اسٹیشن پر نماز پڑھنے کے لئے اترے۔ اسٹیشن کے آدمیوں سے پوچھا کہ " پچھم کس طرف ہے ؟ مگر کسی کے پاس اس سادہ سے سوال کا جواب نہ تھا۔ میں نے سوچا ” سورج ایک روشن ترین حقیقت کی حیثیت سے روزانہ ان کے اوپر نکلتا ہے اور ڈوبتا ہے۔ مگر لوگ اپنے آپ میں اتنا گم ہیں کہ ان کو مشرق و مغرب کا پتہ نہیں۔ پھر وہ لطیف پیغام جو سورج اور اس کے کائناتی ساتھی اپنی خاموش زبان میں نشر کر رہے ہیں ان سے کیسے کوئی با خبر ہو سکتا ہے۔

ہماری ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی۔ میں باہر آکر پلیٹ فارم پر کھڑا ہو گیا۔ سورج ابھی ابھی غروب ہوا تھا۔ ہرے بھرے درخت، ان کے پیچھے سرخی ملی ہوئی روشنی اور اس کے اوپر پھیلے ہوئے بادل، عجیب آفاقی حسن کا منظر پیدا کر رہے تھے۔ ” ان میں یہ سن ان کی بلندی نے پیدا کیا ہے ، میں نے سوچا ۔ مگر انسان اس بلندی تک جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ اس سطح پر نہیں جیتا جس سطح پر درخت جی رہے ہیں ۔ وہ وہاں بسیرا نہیں لیتا جہاں روشنی اور بادل بسیرا لئے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس وہ سطحی مفادات میں جیتا ہے۔ وہ جھوٹی دوستی اور جھوٹی دشمنی میں سانس لیتا ہے۔ کائنات کا ہم سفر بننے کے بجائے اپنے آپ کو وہ اپنی ذات کے خول میں بند کر لیتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں جنتی فضائیں اس کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہاں وہ اپنے آپ کو دوزخ کے ماحول میں ڈال دیتا ہے۔ انسانی دنیا کے بگاڑ کی ساری وجہ یہی ہے۔ اگر وہ بلند سطح پر جینے لگے تو اس کی زندگی میں بھی وہی حسن آجائے جو قدرت کے حسین مناظر میں دکھائی دیتا ہے ۔ (۱۷ مارچ ۱۹۷۹ء)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page