تضاد ختم ہوگا
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰
تضاد ختم ہوگا
میں آبادی سے دور ایک پہاڑ کے سامنے کھڑا تھا۔ سرسبز درخت میرے سامنے پھیلے ہوئے تھے۔ چڑیوں کی بولیاں کانوں میں آرہی تھیں۔ مختلف قسم کے جانور چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ یہ دیکھ کر میرے اوپر عجیب تاثر ہوا۔ کیسا عظیم اور کیسا کامل ہوگا وہ خدا جس نے اتنی بڑی دنیا بنائی اور پھر اس کو مجبور کر دیا کہ وہ اس کے بتائے ہوئے نقشہ کی انتہائی پابند رہتے ہوئے حرکت کرے۔
کتنی حسین اور کتنی معصوم ہے یہ دنیا۔ یہاں چڑیاں وہی آوازیں نکالتی ہیں جو ان کے خالق نے انھیں سکھایا ہے۔ یہاں بلی اور بکری بالکل اسی طرح اپنا رزق کھاتے ہیں جو پیدائشی طور پر ان کے مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہاں درخت عین اسی منصوبہ کے مطابق آگتے اور بڑھتے ہیں جو ازل سے ان کے مالک نے ان کے لئے متعین کر دیا ہے۔ یہاں دریا ٹھیک اسی قانون کے مطابق رواں ہوتا ہے جو اس کے لئے ابدی طور پر مقدر ہے۔ خدا کی کائنات انتہائی کامل مجموعہ ہے اور یہاں کی ہر چیز ادنی انحراف کے بغیر عین اسی طرح عمل کرتی ہے جس کا حکم اس کے خدا نے اسے دے رکھا ہے۔
مگر انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اپنے منہ سے ایسی آوازیں نکالتا ہے جس کی اجازت اس کے خدا نے اسے نہیں دی۔ وہ ایسی چیزوں کو اپنا رزق بناتا ہے جس سے اس کے مالک نے اس کو روک رکھا ہے۔ وہ اپنے سفر حیات کے لئے ایسے راستے اختیار کرتا ہے جہاں کا تب ازل نے پیشگی طور پر اس کے لئے لکھ دیا ہے کہ یہاں سے گزرنا منع ہے ،، انسان خدا کی کائنات کا بہت چھوٹا حصہ ہے مگر وہ عظیم کائنات کے مجموعی نظام سے بغاوت کرتا ہے، وہ خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرتا ہے ۔ یہ خدا کی بے تضاد دنیا میں تضاد کو دخل دینا ہے۔ یہ ایک ہم آہنگ مجموعہ میں بے آہنگی کا جوڑ لگانا ہے۔ یہ ایک حسین تصویر میں بدصورتی کا دھبہ ڈالنا ہے۔ یہ ایک کامل دنیا میں ناقص چیز کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ فرشتوں کی سرگرمیوں کے ماحول میں شیطان کو سرگرم ہونے کا موقع دینا ہے۔
خدا کی قدرت اور اس کے حسن ذوق کا ثبوت جو عظیم تر کائنات میں ہر لمحہ نظر آتا ہے وہ اس گمان کی تردید کرتا ہے کہ یہ صورت حال اسی طرح باقی رہے۔ خدا کی قدرت یقیناً اس ظلم کی اجازت نہیں دے سکتی۔ خدا کا حسن ذوق ہرگز اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ضرور ہے کہ وہ دن آئے جب کائنات کا یہ تضاد ختم ہو، خدا کی مرضی انسانی دنیا میں بھی اسی طرح پوری ہونے لگے جس طرح وہ بقیہ دنیا میں پوری ہو رہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues