صرف ”کرنا“ کافی نہیں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳
صرف ”کرنا“ کافی نہیں
بالٹی کے پیندے میں سوراخ ہو اور اوپر سے آپ اس میں پانی ڈالیں تو سارا پانی بہہ کر نکلتا رہے گا اور بالٹی کے اپنے حصہ میں کچھ نہیں آئے گا۔ ایسا ہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ آدمی کا یہی حقیقت عمل ہے جو خود اس کو کچھ دے رہا ہو۔ اگر آدمی بظاہر سرگرمیاں دکھار ہا ہو اور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم ہو تو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاری پڑے۔ اس کے دل میں سوز و تڑپ کا کوئی لادا ابلے۔ اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہل چل پیدا ہو۔ اس کے اندرون میں کوئی ایسا حادثہ گزرے جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لئے کھول دے۔ یہی یافت کسی عمل کی کامیابی کا اصل معیار ہے۔ وہی عمل عمل ہے جو آدمی کو اس قسم کے تحفے دے رہا ہو۔ جس عمل سے آدمی کو یہ چیزیں نہ ملیں وہ ایسا ہی ہے جیسے سوراخ دار بالٹی میں پانی گرانا۔
دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ کیا ہورہے ہیں۔ اگر آپ کی ”مصروفیات“ بہت بڑھی ہوئی ہوں، اگر بتانے کے لئے آپ کے پاس بہت سے کارنامے ہوں مگر آپ کی اندرونی ہستی خالی ہو، آپ خود کچھ نہ ہورہے ہوں تو آپ کی مصروفیات محض بے فائدہ سرگرمیاں (Idle Business) ہیں۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہوائیں ہوں مگر ان سے آکسیجن نہ ملے۔ پانی ہو مگر اس سے سیرابی حاصل نہ ہو۔ غذا ہو مگر اس سے آدمی کو قوت نہ ملے۔ سورج ہو مگر وہ روشنی نہ دے رہا ہو تو ایسا ہونا ہونا نہیں ہے بلکہ نہ ہونے کی بدترین شکل ہے۔ اسی طرح جو عمل آدمی کی اپنی غذا نہ بن رہا ہو وہ عمل نہیں صرف بے عملی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بے معنی کوئی چیز۔
پتھر کے اوپر آپ پانی ڈالیں تو وہ بظاہر پانی سے بھیگ جائے گا۔ اس کے چاروں طرف پانی پانی نظر آئے گا۔ مگر پتھر پانی کے مزہ اور تراوٹ کو نہیں جانتا، اس نے پانی کی اس دوسری حیثیت کا تجربہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس ایک زندہ آدمی جب پیاس کے وقت پانی پیتا ہے تو اس کی رگیں تر ہو جاتی ہیں، وہ پانی کی حقیقت کا ایک اندرونی تجربہ کرتا ہے۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کرنا کیا ہے اور ہونا کیا۔ کرنا یہ ہے کہ آدمی کچھ مقررہ اعمال کو بس رسمی طور پر دہرائے۔ آدمی کی زبان کچھ الفاظ بولے مگر وہ الفاظ اس کے دل کی دھڑکن نہ بن رہے ہوں۔ آدمی اپنے ہاتھ پاؤں سے کچھ عمل کرے مگر اس کا عمل اس کی روح کو نہ چھوئے ۔ اس کی حركات وسکنات اس کے دل و دماغ میں ارتعاش نہ پیدا کریں۔ اس کےبرعکس ہونا یہ ہے کہ آدمی کا عمل اس کے لئے روحانی تجربہ بن رہا ہو۔ اس کی اندرونی ہستی کو بار بار کیفی غذائیں مل رہی ہوں۔ اس کا جسمانی عمل اس کے غیر جسمانی وجود میں ہلچل پیدا کر رہا ہو۔ وہی کرنا کرنا نہ رہے جس کے درمیان آدمی خود بھی کچھ ہورہا ہو۔ جو کرنا ہو نا نہ بنے، حقیقت کے اعتبار سے اس کی کوئی قیمت نہیں۔ وہ گویا ایک ایسا پتھر ہے جو بظاہر پانی سے بھیگ رہا ہے مگر پانی کا مزہ نہیں پاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues