جب پردہ اٹھے گا
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۳۸
جب پردہ اٹھے گا
امریکی صدر رونالڈ ریگن ۳۰ مارچ ۱۹۸۱ کو پر اعتماد چہرہ کے ساتھ اپنے صدارتی محل (دھائٹ ہاؤس) سے نکلے۔ کاروں کا قافلہ ان کو لے کر واشنگٹن کے ہِلٹن ہوٹل کی طرف روانہ ہوا۔ پرو گرام کے مطابق انھوں نے ہوٹل کے شان دار ہال میں ایک تقریر کی تحسین و آفریں کی فضا میں ان کی تقریر ختم ہوئی ۔ وہ آدمیوں کے ہجوم میں ہنستے ہوئے چہرہ کے ساتھ باہر آئے۔ وہ اپنی گولی پروف لیموشین (کار) سے صرف چند قدم کے فاصلہ پر تھے کہ اچانک باہر کھڑے ہوئے مجمع کی طرف سے گولیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ایک نوجوان جان ہنکلے نے دو سیکنڈ کے اندر چھ فائر کئے۔ ایک گولی مسٹر ریگن کے سینہ پر لگی۔ وہ خون میں لت پت ہو گئے اور فوراً اسپتال پہنچائے گئے۔ اچانک گولی لگنے کے بعد صدر امریکہ کا جو حال ہوا وہ اے پی کا رپورٹر ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
Mr Reagan appeared stunned. The smile faded from his lips مسٹر ریگن جیسے سن ہو گئے۔ مسکراہٹ ان کے ہونٹوں سے غائب ہوگئی (ٹائمس آف انڈیا ۳۱ مارچ ۱۹۸۱) یہ واقعہ اس صورت حال کی ایک تصویر ہے جو موت کے ”حملہ کے وقت اچانک آدمی پر طاری ہوگی۔ آدمی موجودہ دنیا میں اپنے کو آزاد سمجھ رہا ہے ۔ وہ نڈر ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ اگر کسی کو کچھ مال ہاتھ آ گیا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میرا مستقبل محفوظ ہے۔ کسی کو کوئی اقتدار حاصل ہے تو وہ اپنے اقتدار کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے اس کا اقتدار کبھی چھننے والا نہیں۔ ہر آدمی پر اعتماد چہرہ لئے ہوئے ہے۔ ہر آدمی ہنستے ہوئے اپنی لیموشین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے بعد اچانک پردہ اٹھتا ہے۔ موت کا فرشتہ اس کو موجودہ دنیا سے نکال کر اگلی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔
یہ ہر آدمی کی زندگی کا ایک انتہائی بھیانک لمحہ ہے۔ جب یہ لمحہ آتا ہے تو آدمی اپنے اندازہ کے بالکل خلاف صورت حال کو دیکھ کر دہشت زدہ ہو جاتا ہے۔ اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ محض دھوکا تھا جس کو اس نے سب سے بڑی حقیقت سمجھ لیا تھا۔ میں نے اپنے کو آزاد سمجھا تھا مگر میں تو بالکل بے اختیار نکلا۔ میں اپنے کو مال و جائداد والا پارہا تھا مگر میں تو بالکل خالی ہاتھ تھا۔ میرا خیال تھا کہ میرے پاس طاقت ہے۔ مگر میں تو خدا کی اس دنیا میں مکھی اور مچھر سے بھی زیادہ بے زور تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ بہت سے لوگ ہیں مگر یہاں تو میرا کوئی ایک بھی نہیں ۔
آہ وہ انسان جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues