Al-Risala · April 1983 · page 42

عمل کے بغیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲

عمل کے بغیر

آج کاغذ کی اتنی افراط ہے کہ جہاں بھی دیکھیں کاغذ کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا ملے گا۔ مگر کاغذ کے ان ٹکڑوں کی کوئی قیمت نہیں۔ نوٹ بھی کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ مگر اس کی قیمت ہے۔ اس کی قیمت اتنی یقینی ہے کہ کوئی بھی آدمی اس پر شبہ نہیں کرتا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عام کاغذی ٹکڑے کی کسی نے ضمانت نہیں لی ہے جبکہ نوٹ کے پیچھے سرکاری بینک کی ضمانت ہے۔ ہر نوٹ پر سرکاری بینک کی یہ ضمانت ثبت ہوتی ہے کہ وہ اس کے پیش کرنے والے کو وہ رقم پوری پوری ادا کر دے گا جو اس پر چھپی ہوئی ہے۔ یہی ضمانت ہے جس نے نوٹ کے کاغذ کو لوگوں کے لئے قیمتی بنا دیا ہے۔

یہی معاملہ الفاظ کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج جتنے الفاظ بولے جا رہے ہیں تاریخ کے کسی دور میں اتنے الفاظ نہیں بولے گئے۔ مگر ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں، کیونکہ ان کے پیچھے اٹل ارادہ کی ضمانت شامل نہیں ہے۔ آپ سے ایک شخص وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کا فلاں کام کر دے گا۔ مگر جب آپ مقررہ وقت پر اس کی حمایت مانگتے ہیں تو وہ بہانہ کر دیتا ہے۔ آپ مذکورہ شخص کے پاس جو چیز لے کر گئے وہ اس کے بولے ہوئے الفاظ تھے۔ جب اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو گویا اس نے اپنے الفاظ کی قیمت ادا نہیں کی۔ اس نے الفاظ کا کاغذ تو دے دیا مگر جو عمل اس کاغذ کی قیمت تھا اس کو دینے کے لئے تیار نہ ہوا۔ اس کے بولے ہوئے الفاظ ردی کاغذ کے ٹکڑے تھے نہ کہ بینک کا جاری کیا ہوا نوٹ۔

آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کی سطح پر ہر آدمی بڑے بڑے الفاظ بول رہا ہے مگر اپنے الفاظ کی عملی قیمت دینے کے لئے کوئی شخص تیار نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بولے ہوئے الفاظ اسی طرح ردی کے پرزے بن کر رہ گئے ہیں جیسے پرزے گلی کوچوں میں ہر وقت پڑے رہتے ہیں اور ہر آدمی ان کو بے قیمت سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔

ایک شخص مظلوموں کی حمایت میں بیانات اور تجویزوں کے انبار لگا رہا ہے مگر جب اس کے قریب کا ایک شخص اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میری مظلومیت پر میری مدد کرو تو وہ اس کو برف کی طرح بالکل سرد پا تا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی جو لفظ بول رہا تھا اس کے پیچھے اس کا حقیقی ارادہ شامل نہ تھا۔ وہ محض زبانی الفاظ تھے نہ کہ کوئی حقیقی فیصلہ۔ ایک شخص لوگوں کے سامنے شرافت اور تواضع کی تصویر بنا رہتا ہے مگر جب اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو اچانک وہ حسد اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی شرافت محض ظاہری تھی، وہ اس کی روح میں اتری ہوئی نہ تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page