Al-Risala · June 1983 · page 46

Where Cross and Cresent Meet

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۴۶

ایک سفر

براعظم امریکہ دو بڑے خشکی کے ٹکڑوں پر مشتمل ایک کو شمالی امریکہ اور دوسرے کو جنوبی امریکہ کہتے ہیں۔ ان دونوں ٹکڑوں کے درمیان بحیرۂ کریبین (Caribbean Sea) ہے جس میں تقریباً ہر چھوٹے چھوٹے جزیرے واقع ہیں۔ انہیں میں سے ایک جزیرہ وہ ہے جس کا نام باربیڈوز (Barbados) ہے۔

اس علاقہ میں پہلی کریبین اسلامک کانفرنس ۲۴ - ۲۸ اپریل ۱۹۸۱ء کو پورٹ اسپین میں ہوئی تھی ۔ دوسری کریبین اسلامک کانفرنس باربیڈوز میں ہوئی۔ مجھے اس کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تھا۔ اس سلسلے میں باربیڈوز کا سفر پیش آیا۔ یہ کانفرنس ۳۱ مارچ سے لیکر ۴ اپریل ۱۹۸۳ء تک جاری رہی۔

۲۳ مارچ کی صبح کو پالیم ایئر پورٹ سے برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۱۴۶ کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ ہوائی جہاز کا سفر، کم از کم میرے لئے، جلد منزل پر پہنچنے کی خاطر ایک ناخوشگوار چیز کو برداشت کرنا ہے ۔ اگر یہ ممکن ہوتا کہ ایک براعظم سے دوسرے براعظم جیسا طویل سفر میں پیدل طے کرسکوں تو یقیناً میں پیدل سفر کو ترجیح دیتا ۔ کیونکہ پیدل چلنے والا خدا کی کھلی ہوئی دنیا میں چلتا ہے ۔ اور ہوائی جہاز کا مسافر انسان کی بنائی ہوئی اڑن جیل میں ہے۔ ہوائی جہاز کے اندر برٹش ایرویز کا میگزین ہائی لائف (High Life) شمارہ مارچ ۱۹۸۳ تھا۔ اس میں لارڈ ناروچ (Lord Norwich) کے قلم سے ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا:

Where Cross and Cresent Meet

اس مضمون میں صلاح الدین ایوبی کی ایک دلچسپ کہانی درج تھی۔ عمان اور عقبہ کے درمیان گزرنے والی سڑک پر قدیم شہر موآب ہے۔ اس میں کراک کا قلعہ واقع ہے۔ یہ ایک پہاڑ کے اوپر ہے جہاں سے بحر مردار دکھائی دیتا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی ۱۱۸۳ء میں یہاں داخل ہوا، اس کو معلوم ہوا کہ یہ عین وہی دن ہے جب کہ یروشلم کی شہزادی از میلا کی شادی تورون کے شہزادہ ہمفری سے ہوئی ہے۔ دلہن کی ماں نے شادی کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page