شراب لے جانا بالکل منع ہے۔ “
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۳۴
جو اس سفر میں ہماری اصل منزل تھی ۔ لندن سے احمد ڈرامٰی کا ساتھ ہو گیا تھا۔ وہ گامبیا(افریقہ) (افریقہ) کے رہنے والے ہیں۔ ہوائی اڈہ پر احمد ڈرامٰی عام مسافروں کے ساتھ باہر نکل آئے۔ امیگریشن کی کھڑکی پر انہیں فوراً دس دن کا ویزا دے دیا گیا ۔ مگر مجھے روک لیا گیا ۔ دیر تک میرے کاغذات کی جانچ ہوتی رہی۔ اس کے بعد میرا پاسپورٹ مجھے واپس دیا گیا تو اس پر صرف ایک دن کی اجازت مندرجہ ذیل الفاظ میں لکھی ہوئی تھی :
Permitted to enter & remain in the Island for one day میرے مقامی ساتھیوں نے اس کے بعد ویزا میں دو ہفتہ کی توسیع کرا لی۔ تاہم مجھے یہ کھوج تھی کہ میرے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا گیا۔
اس فرق کا راز مجھے اس وقت معلوم ہوا جب کہ میں باربیڈ وز شہر (برج ٹاؤن) پہنچا۔ یہاں لوگوں نے بتایا کہ باربیڈ وز چونکہ سیاحوں کا جزیرہ ہے، یہاں آنے والوں کے لئے داخلہ کے قوانین بہت نرم ہیں۔ پہلے یہ اجازت عام تھی ۔ اب اس میں ہندوستان اور پاکستان کا استثناء ہو گیا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں نے ضابطہ کی خلاف ورزی کی انہوں نے اپنے لوگوں کو یہاں بلایا اور غلط معلومات پیش کر کے ان کو باربیڈوز کا شہری بنا لیا۔ حکومت کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے یہ قانون بنا دیا کہ ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے لوگوں کے کاغذات کی سخت جانچ کی جائے اور ان کو پیشگی ویزا کے بغیر باربیڈوز آنے سے روکا جائے ۔ اپنے بھائیوں کے کردار کی یہ قیمت تھی جو مجھ کو باربیڈوز ہوائی اڈہ پر ادا کرنی پڑی۔
یورپ اور امریکہ کے سیاح جو یہاں آتے ہیں وہ تفریح کی غرض سے آتے ہیں۔ وہ یہاں خرچ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان کے لوگ یہاں کمانے کے لئے آتے ہیں ۔ ایک دینے کے لئے آتا ہے اور دوسرا لینے کے لئے۔ اور دینے والا ہمیشہ مطلوب ہوتا ہے اور لینے والا ہمیشہ غیر مطلوب۔
باربیڈوز میں ہندوستان سے آئے ہوئے کافی لوگ ہیں ۔ یہ برطانی شہنشاہیت کے زمانہ میں یہاں لائے گئے۔ برطانیہ نے اپنے عروج کے زمانہ میں دنیا کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ان میں بے شمار چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی شامل تھے ۔ انہیں میں کریبین سمندر کے کئی جزائر بھی شامل ہیں جن میں سے ایک باربیڈوز ہے۔ سو سال پہلے یہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues