Al-Risala · June 1983 · page 37

It's not my business

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۳۷

ہار بیڈوز (Barbados) ہے ۔ اس جزیرہ کا دار السلطنت برج ٹاؤن (Bridgetown) ہے ۔ اسی مقام پر دوسری کریبین اسلامک کانفرنس ہوئی جو ۳۱ مارچ سے لیکر ۴ اپریل ۱۹۸۳ تک جاری رہی۔

بار بیڈوز کا نام اس جزیرہ کو پر تعالیوں نے دیا۔ پر تنگیری سب سے پہلے ۱۵۳۶ء میں اس جزیرہ سے گزرے۔ اس وقت یہ جزیرہ بالکل غیر آباد تھا۔ یہاں کے ساحلوں پر اس وقت خاص طرح کے درختوں کی کثرت تھی جن میں ریشے لٹکتے ہیں۔ اس کو دیکھ کر پر تنگیریوں نے کہا (Los Barbados) یہ اسپینی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہوتے ہیں۔ " داڑھی والا " یہ کہہ کر پر تنگیری آگے بڑھ گئے۔ اس کے بعد ۱۶۲۵ء میں انگریز یہاں آتے تو انہوں نے اسی نام کے ساتھ اس کو آباد کیا۔

بار بیڈوز کے خوبصورت ہوٹلوں میں سب سے زیادہ عام منظر یورپ اور امریکہ کے سفید فام سیاح ہیں جو نیم برہنہ لیٹے، بیٹھے یا گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان مردوں اور عورتوں کا کام صرف دو ہے شراب پینا اور باہم عیش کرنا ۔ ان میں سے کچھ افراد سے ہماری باتیں ہوئیں ۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ کیا واقعی انہیں زندگی کی لذت حاصل ہے۔ ان کی گفتگو اور ان کے مشاہدے سے میں نے یہی سمجھا کہ وہ صرف لذت کی تلاش میں ہیں۔ عملاً انہیں ان کی مطلوبہ لذت حاصل نہیں۔

مغرب کے لوگ شادی کرتے ہیں۔ جب اس سے انہیں مطلوبہ لذت نہیں ملتی تو طلاق دے کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس سے بھی مقصد حاصل نہیں ہوتا تو آزاد معاشرہ (Permissive Society) کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس سے بھی تسکین نہیں ہوتی تو ننگے پن کی طرف دوڑتے ہیں۔ وہ انہیں چیزوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مایوسی کے عالم میں مرجاتے ہیں۔ ان کا یہ ناکام خاتمہ صرف اس نادانی کی قیمت ہے کہ انہوں نے موجودہ زندگی میں وہ چیز حاصل کرنی چاہی جو موجودہ دنیا میں ملنے والی نہیں ۔

بار بیڈوز کی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے اس کو مختلف نام دیئے گئے ہیں ۔ مثلاً : Tropical Paradise - Happiness Island - Jewel of the Caribbean جزیرہ بار بیڈوز اٹلانٹک کے بار کا ایک موتی کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی صرف ۲۱ میل

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page