نگاہ کا فرق
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۹
نگاہ کا فرق
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے سے ایک گاڑی گزری جس میں دو جانور جتے ہوئے تھے۔ ایک جانور چلتے چلتے بیٹھ گیا۔ تو مالک نے اس کو کوڑا مارا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوالدرداء کی زبان سے نکلا : ان فیھا لمعتبرا (اس میں بھی عبرت ہے) یعنی جس جانور نے اپنی ذمہ داری پوری کی وہ بچ گیا اور جس جانور نے کوتاہی کی اس پر مالک کا ڈنڈا پڑا۔
حضرت ابو الدرداء اس موقع پر اور بہت سی باتیں کہہ سکتے تھے۔ مثلاً وہ مالک سے کہتے کہ تم نے کیسا برا جانور خریدا ہے۔ اچھا جانور لو جو دوسرے والے کے جوڑ کا ہو لیکن یہ چیزوں کو دنیا کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مگر مومن ہر چیز کو آخرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں آخرت کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ آج کی دنیا کی چیزوں میں بھی کل کی دنیا کی تصویر دیکھ لیتا ہے۔
آجکل پریس کا زمانہ ہے۔ ہر آدمی اپنے ”تاثرات و مشاہدات “ چھاپ رہا ہے۔ مگر غور سے دیکھے تو کسی کے تاثرات و مشاہدات میں آخرت کی جھلکیاں نظر نہیں آتیں۔ کوئی تمدن کی شان و شوکت بیان کر رہا ہے۔ کوئی اپنے دعوت اور استقبال کے قصوں کو دہرارہا ہے۔ کوئی انسانوں کی عظمت کی کہانیاں سنا رہا ہے۔ کسی کے ” تاثرات و مشاہدات “ میں یہ نہیں ملتا کہ کسی موقع پر آگ کی چنگاری میں اس نے جہنم کا مشاہدہ کر لیا ہو۔ کہیں پھولوں کی رعنائی میں اس کو جنت کی جھلک دکھائی دی ہو۔ کہیں کسی دارو گیر کو دیکھ کر اس کو آخرت کے حساب و کتاب کی یاد آگئی ہو۔
اس قسم کے تمام تاثرات و مشاہدات غفلت کے تاثرات و مشاہدات ہیں۔ یہ چیزوں کو غیر مومن کی آنکھ سے دیکھنا اور غیر مومن کے کان سے سننا ہے۔ یہ غیر مومن قلب سے ۔ واقعات کا رد عمل پیش کرنا ہے۔ اور جو شخص قلب و نظر کے اعتبار سے غیر ایمانی مقام پر ہو وہ ظاہری عملیات کی بنا پر خدا کے یہاں ایمانی مقام پر کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ خواہ یہ ظاہری عملیات مقدار میں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues