حج کا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۳۴
وہ اس کے دشمن کو کنکریاں مار رہا ہے ۔ وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ مانگنا چاہتا ہے ۔ وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ اسے پانا چاہئے۔
عرفات کا میدان اس سلسلہ میں بڑا عجیب منظر پیش کرتا ہے ۔ خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے چلے آ رہے ہیں ۔ سب کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس ہے ۔ ہر ایک اپنی امتیازی صفت کو کھو چکا ہے ۔ سب کی زبان پر ایک ہی لفظ جاری ہے۔ لبیک اللھم لبيك، لبيك اللھم لبيك ۔ یہ منظر دیکھ کر قرآن کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے ۔ ونفخ في الصور فاذ اھم من الاجداث الى ربھم ينسلون - حقیقت یہ ہے کہ عرفات کا اجتماع حشر کے اجتماع کی ایک دنیوی تصویر ہے ۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہےالحج عرفة (عرفات کے میدان میں قیام ہی حج ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا اہم ترین فائدہ کیا ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی میدان حشر میں خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے ۔ جو کچھ کل عملاً بیتنے والا ہے اس کو آج ہی ذہنی طور پر اپنے اوپر طاری کرلے ۔
کعبہ خدائے واحد کا گھر ہے ۔ جس کو دو پیغمبروں (حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ) نے مل کر بنایا ۔ ان پیغمبروں کی خدا پرستی اور خدا کے لئے ان کی قربانی کے حیرت انگیز واقعات اس مسجد سے وابستہ ہیں ۔ پھر پیغمبر اسلام اور آپ کے پاک اصحاب کی زندگیاں اور ان کی تمام خدا پرستانہ سرگرمیاں اس کی فضاؤں میں بسی ہوئی ہیں ۔
خدا پرستی اور خدا کے لئے قربانی کی اس طویل تاریخ کو آدمی کتابوں میں پڑھتا ہے۔ وہ اس کے حافظہ کے خانہ کا جز بنی ہوئی ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد جب وہ کعبہ کے سامنے پہنچتا ہے تو حافظہ کی تمام یادیں اچانک جاگ اٹھتی ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو ایک تاریخ کے سامنے کھڑا ہوا پاتا ہے ۔ خدا سے خوف اور محبت کی تاریخ ، خدا کے لئے قربان ہو جانے کی تاریخ، خدا کو اپنا سب کچھ بنانے کی تاریخ ، خدا کو قادر مطلق کی حیثیت سے پالینے کی تاریخ ، خدا کی خاطر اپنے آپ کو مٹا دینے کی تاریخ ۔
اس قسم کی ایک عظیم ربانی تاریخ اس کے سامنے کعبہ کی صورت میں مجسم ہو جاتی ہے۔ وہ حجری حروف میں لکھی ہوئی اس کو نظر آنے لگتی ہے ۔ یہ تجربہ اس کے دماغ کو ہلاتا ہے اور اس کے سینہ کو پگھلا دیتا ہے ۔
یہ میری محرومی تھی کہ میں نے ابھی تک حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا ۔ اس سال میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues