Al-Risala · January 1983 · page 36

Ladies and Gentlemen

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶

ہیں۔ جہاں لوگوں کے پاس صرف اپنے تالے کی کنجیاں ہوں وہاں لوگ اکثر یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ کوئی ایسی شاہ کلید بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعہ ان کے اپنے تالے سمیت تمام تالوں کو کھولا جا سکے۔

ہندوستان میں ’’بائیں چلو‘‘ کا اصول ہے اور لیبیا میں ’’دائیں چلو‘‘ کا اصول۔ نئی دہلی کا کوئی آدمی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ طرابلس کی سڑک پر ’’بائیں چلو‘‘ کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ اسی طرح طرابلس کا ایک آدمی کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ نئی دہلی کی سڑک پر ’’دائیں چلو‘‘ کے اصول پر عمل کرے اور اپنی گاڑی لے کر دائیں رخ پر دوڑنے لگے۔ سڑکوں کے بارے میں ہر آدمی اس قانون کو جانتا ہے مگر زندگی کے معاملے میں ہر آدمی اس اصول کو بھول جاتا ہے۔ یہاں ہر آدمی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ اسے کسی ’’خارجی قانون‘‘ کی پابندی کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے ذوق کے مطابق خواہ دائیں طرف اپنی زندگی کی گاڑی دوڑائے یا بائیں طرف۔

کانفرنس کا افتتاح ۱۴ اگست کی شام کو ہوا۔ اس کے بعد پانچ روز تک باقاعدہ کارروائی جاری رہی۔ ہر روز کا اجلاس کسی خاص آدمی کی صدارت میں ہوا۔ ایک دن (۱۵ اگست) کی نشست کے لئے راقم الحروف کو صدر جلسہ (یہاں کی اصطلاح میں امین جلسہ) بنایا گیا۔ میں نے اپنی صدارتی تقریر انگریزی میں کی اور اس میں چند باتیں کہیں۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اس وقت دنیا بھر کے مسلمان یہاں ایک چھت کے نیچے جمع ہیں۔ ان کو جس چیز نے یکجا کیا ہے وہ اسلامی دعوت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت ایک ایسا عنوان ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتحاد ہو سکتا ہے۔ پھر کیوں ہم ان عنوانات پر زور آزمائی کریں جن میں مسلمان ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بجائے ہم کو دعوت کے مقصد کو لے کر آگے بڑھنا چاہئے جو اتحاد و اتفاق پیدا کرتا ہے اور اتحاد و اتفاق بلا شبہ سب سے بڑی قوت ہے۔ کانفرنس کی کارروائی چھ دن جاری رہی۔ پروگرام کی تفصیل مطبوعہ نقشہ کے مطابق حسب ذیل تھی: ۱۴ اگست الافتتاح ۱۵ اگست الدعوۃ الاسلامیة فی عالمنا المعاصر ۱۶ اگست الدعوۃ الاسلامیة ومشکلات المسلمین ۱۷ اگست قضیة الحریة فی العالم الاسلامی ۱۸ اگست الاسلام وتحدیات العصر ۱۹ اگست بیان الموتمر والتوصیات الختامیہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page